انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 405

انوار العلوم جلد 23 405 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ حنفیوں کی کتاب ھدایہ جلد 2 صفحہ 292،291 میں لکھا ہے:- إِنَّمَا فُرِضَ لِاعْزَازِ دِينِ اللَّهِ وَ دَفْعِ الشَّرِ عَنِ الْعِبَادِ۔کہ جہاد دین الہی کو معزز بنانے کے لئے اور خدا کے بندوں کو شر اور فساد سے محفوظ رکھنے کے لئے فرض کیا گیا ہے۔اور پھر اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس کی طرح قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے کہ وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ - 360 مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی امیر اہل حدیث نے بھی جہاد کی وہی تعریف کی ہے جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کی۔آپ کے متعلق روایت ہے کہ آپ نے اصل معنی جہاد کے لحاظ سے بغاوت 1857ء کو شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اُس کو بے ایمانی و عہد شکنی و فساد و عناد خیال کر کے اُس میں شمولیت اور اُس کی معاونت کو معصیت قرار دیا - 361 اس طرح حنفیوں کی طرف سے یہ فتویٰ شائع ہوا ہے کہ :- ”جو حکومت مسلمانوں کے مذہبی شعائر میں پوری آزادی دیتی ہے اُن کے جان و مال و آبرو کی محافظ ہے۔قرآن اور رسول کی بے حرمتی کو قانونا جرم قرار دیتی ہے۔بیت اللہ اور بیت الرسول کی زیارت سے نہیں روکتی اُس کے ساتھ ترک تعلقات کیسے واجب ہو سکتا ہے“۔362 شیعہ صاحبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ:- بر طانیہ عظمی کی برکات کا اعتراف کرتے ہوئے شیعانِ ہندوستان کی طرف سے دلی خلوص اور وفاداری کا اظہار کرتا ہوں اور اعلیٰ حضرت شہنشاہ معظم جارج پنجم خَلَدَ اللَّهُ سُلْطَانَہ و ملکہ کی سلامتی اور اقبال کی دُعا پر اس مبارک جلسہ کو برخاست کرتا ہوں“۔363