انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 34

انوار العلوم جلد 23 34 اول کوئی زمین میرے قبضہ میں ہے جو کہ انجمن کے روپیہ سے خریدی گئی ہے۔دوم یہ کہ میں اس زمین کو فروخت کر رہا ہوں۔سوم یہ کہ جماعت کے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔احرار کو چیلنج چہارم یہ کہ میری فروخت کا بڑا محرک جاگیر داری کے منسوخ ہونے کا قانون ہے۔پنجم یہ کہ انجمن کی زمین کی قیمت کو میں اپنی ذات پر خرچ کرنا چاہتا ہوں۔میں نمبر وار ان سوالوں کا جواب دیتا ہوں۔نمبر اوّل کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض انجمن کی زمینیں میرے نام پر خریدی ہوئی ہیں مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ بعض میری زمینیں انجمن کے نام پر خریدی ہوئی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جو زمینیں انجمن کی میرے نام پر خریدی ہوئی ہیں ان کا رقبہ ان زمینوں کی نسبت جو میری ہیں اور انجمن کے نام پر خریدی گئی ہیں قریباً نصف یا ساٹھ فی صدی کے قریب ہے۔پس اگر میں انجمن کی زمینیں فروخت کروں تو اس سے قریباً دو گنا رقبہ میرا انجمن کے پاس ہے اور وہ مجھے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔اس گڑ بڑ کی وجہ یہ ہے کہ در حقیقت سندھ میں جو زمینیں خریدی گئی ہیں وہ ایک احمد یہ کمپنی نے خریدی تھیں جس کا ذکر اُس زمانہ کے "الفضل" کے فائلوں میں ملتا ہے اور جس کا ذکر انجمن کے ریزولیوشنوں میں بھی آتا ہے۔اس کمپنی کا ایک بڑا حصہ دار میں تھا اور مجھ سے بھی بڑی حصہ دار انجمن تھی۔کچھ اور حصہ دار بھی تھے لیکن شروع میں چونکہ آمدن پیدا نہ ہوئی اور زمینوں کی قسط ادا کرنے کے لئے لوگوں کو اپنے پاس سے روپے دینے پڑے اس لئے سوائے تین حصہ داروں کے باقی سب حصہ داروں نے اپنی زمینیں دوسرے حصہ داروں کے پاس فروخت کر دیں اور اب اس کمپنی کی زمین صرف تین حصہ داروں کے پاس رہ گئی ہے اور وہ یہ ہیں۔صدر انجمن احمد یہ ، میں اور میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب۔اسی دوران میں جبکہ ابھی زمینیں تقسیم نہیں ہوئی تھیں، کچھ اور زمینیں معلوم ہوئیں جو خریدی جاسکتی تھیں۔چنانچہ تحریک جدید نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنے ریزرو فنڈ کو انہی زمینوں کی خرید میں لگالے لیکن تحریک -