انوارالعلوم (جلد 23) — Page 33
انوار العلوم جلد 23 33 احرار کو چیلنج پاس کوئی زمین ہے اور وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔اس امر کو تو کوئی عظمند باور نہیں کر سکتا اور جو اعتراض معقول ہے اور جو میں نے اوپر لکھا ہے اگر وہ کسی نے کیا ہے تو اس خط کے چربہ سے اس کا جواب نہیں ملتا کیونکہ اعتراض تو صرف یہی ہو سکتا ہے کہ انجمن کے روپیہ سے خریدی ہوئی زمین کو اپنی ذات کے لئے فروخت کرنا نا جائز ہے اور اس خط میں جس کا چربہ شائع کیا گیا ہے نہ تو یہ ذکر ہے کہ وہ زمین انجمن کے روپیہ سے خریدی گئی ہے اور نہ یہ کہیں ذکر ہے کہ وہ روپیہ میں اپنی ذات کے لئے استعمال کرنے والا ہوں۔پس اس چر بہ سے کیا نتیجہ نکلا ؟ کچھ بھی نہیں۔جہاں تک اس خط کے شائع ہونے کا سوال ہے یہ تو میرے دفتر کے کلرک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو حل کرے یا " آزاد " اخبار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو حل کرے کہ آیا اس نے ٹرین پوسٹل سروس کی مدد سے خط پچر آیا ہے یا پولیس سنسر نے اسے یہ خط دیا ہے یا خود میرے کلرک سے مل کر یہ خط چرایا گیا ہے۔جہاں تک میری عزت کا سوال ہے مجھے اس امر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ نہ تو میں یہ کہتا ہوں کہ جس زمین کا اس خط میں ذکر ہے وہ میرے پاس نہیں ہے اور نہ میں اس بات کا انکار کرتا ہوں کہ میں اس زمین کو فروخت کر رہا ہوں۔جہاں تک اس خط کے مضمون کی اشاعت کا تعلق ہے مجھے اس خط کے چھپنے سے نہ کوئی تکلیف ہوئی ہے نہ فکر کیونکہ زمین کا مالک ہونا یا اسے فروخت کرنے کی کوشش کرنا کوئی اخلاقی ، مذہبی یا سیاسی مجرم نہیں ہے۔باقی رہا یہ امر کہ خواہ کتنا ہی بے ضرر مضمون ہو میرے دفتر کا ایک خط چرایا گیا ہے۔خواہ ٹرین پوسٹل سروس کے ذریعہ سے یا سنسر کے ذریعہ سے یا میرے دفتر کے کسی غدار کے ذریعہ سے۔مجھے اس خط کے شائع ہونے کے بارہ میں ضرور دلچسپی ہے اور میں اس کی ضرور تحقیقات کروں گا۔مجھے بعض وجوہ سے غالب خیال ہے کہ یہ چوری ایک خاص ذریعہ سے ہوئی ہے لیکن چونکہ وہ صرف عقلی خیال ہے اس کے اوپر میں اپنے عمل کی بنیادرکھنے کو تیار نہیں۔اب میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو "آزاد" نے شائع کیا ہے۔"آزاد" نے لکھا ہے کہ :-