انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 391

انوار العلوم جلد 23 391 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ان آیات سے ظاہر ہے کہ اسلام میں جہاد کا حکم اسی وجہ سے دیا گیا کہ مسلمانوں کو ربنا اللہ کہنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور محض دین کی وجہ سے وہ ملک سے نکالے جاتے تھے اور اُن پر طرح طرح کے ظلم کئے جاتے تھے اور اس حکم میں یہ شرط لگائی گئی کہ اُن لوگوں سے لڑیں جنہوں نے اُن پر حملہ کیا ہے ، دوسروں سے نہیں اور یہ بھی بتایا گیا کہ مذہب میں دخل اندازی کی روح اگر پھیل جائے تو اس میں صرف مسلمانوں کا ہی نقصان نہیں اور صرف انہی کی مسجدیں نہیں گرائی جائیں گی بلکہ اس کے نتیجہ میں عیسائیوں کے گرجے بھی گرائے جائیں گے ، یہودیوں کے معبد بھی گرائے جائیں گے اور راہبوں کے خلوت خانے بھی گرائے جائیں گے اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ وہ لوگ جو اس نیت کے ساتھ کہ خدا تعالیٰ کے نام کو دُنیا میں آزادی حاصل ہو اور مذہبی اُمور میں دست اندازی نہ کی جائے اُن لوگوں سے لڑیں گے جو کہ مذہبی دست اندازی کی خاطر اُن سے لڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اپنے دُشمنوں پر غلبہ عطا فرمائے گا اور جو لوگ اِن وجوہ سے جنگ کریں گے وہ یقیناً جب غالب آئیں گے تو خدا کی عبادتوں کو قائم کریں گے، غریبوں کے لئے اپنے مال خرچ کریں گے ہر ایک کو نیک بات کی تعلیم دیں گے اور بری باتوں سے روکیں گے اور مذہبی امور میں اپنا اختیار نہیں جتائیں گے بلکہ ان باتوں کو خدا پر چھوڑ دیں گے۔ یہ حکم کتنا واضح ہے۔ جہاد صرف اُن لوگوں سے ہے جو کہ مسلمانوں کے خلاف دین کے لئے لڑتے ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی اُس عبادت سے روکتے ہیں جو اُن کے طریق کے خلاف ہے اور جو اپنے سے مخالف لوگوں کی عبادت گاہوں کو گرانا جائز سمجھتے ہیں ایسے لوگوں سے جنگ جائز کی گئی اور اس قسم کی جنگ کے متعلق یہ بھی پیش گوئی کی گئی کہ جو شخص اس نیت کے ساتھ اور ان حالات میں جنگ کرے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ سورہ بقرہ میں بھی یہ مضمون دوبارہ بیان کیا گیا ہے۔ وہاں فرمایا گیا ہے : وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ اَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ