انوارالعلوم (جلد 23) — Page 390
انوار العلوم جلد 23 390 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ جہاد کی حقیقت اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے جہاد کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔یہ بات ہر شخص پر ظاہر ہے کہ چودہ سال تک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے قسم قسم کے ظلم سہے لیکن پھر بھی مخالفوں کی سختی کا جواب سختی سے نہیں دیا۔اسی دوران میں تیرہ سال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنی پڑی لیکن مدینہ جانے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا نہیں چھوڑا گیا اور مدینہ کے ارد گر د حملے کر کے لوگوں پر زور ڈالا گیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و کا مقاطعہ کریں اور آپ سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں۔تب کہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے دفاع کی اجازت دی گئی اور لڑائی کا حکم ان الفاظ میں نازل ہوا: أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ لا وسلم بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا اَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَ صَلَوتَ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ - الَّذِينَ إِنْ مَكَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكَوةَ وَ اَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ - 338 یعنی اُن لوگوں کو جن پر حملہ کیا جاتا ہے حملہ کا جواب دینے کی اِس لئے اجازت دی جاتی ہے کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مدد پر قادر ہے۔یہ لوگ جن کو اجازت دی گئی ہے وہ ہیں جو اپنے گھروں سے بغیر کسی قصور کے نکالے گئے۔اُن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ کہتے تھے اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض انسانوں کے حملہ کو دوسرے انسانوں کے ذریعہ سے نہ روکے تو عیسائیوں کے گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور راہبوں کی خلوت گاہیں اور مساجد جن سب میں اللہ تعالیٰ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے گرا دی جائیں اور اللہ تعالیٰ یقیناً اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو خدا کی مدد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یقیناً طاقتور اور غالب ہے۔وہ لوگ کہ اگر ہم اُن کو زمین میں طاقت بخشیں تو وہ نمازوں کو قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے اور نیک باتوں کا حکم دیں گے اور بُری باتوں سے روکیں گے اور سب باتوں کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہی ہونا چاہئے۔