انوارالعلوم (جلد 23) — Page 382
انوار العلوم جلد 23 382 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ چالیس سال قبل حکومت انگریزی کا تسلط پنجاب پر ہو چکا تھا۔اس سے پہلے پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی جن سے انگریزوں نے قبضہ حاصل کیا تھا۔سکھ دور کے جبر واستبداد اور وحشیانہ مظالم کی داستان حد درجہ المناک ہے۔مسلمانوں کو اُس زمانہ میں انتہائی صبر آزما حالات میں سے گزرنا پڑا۔اُنہیں جبراً مر تد بنایا گیا، اذا نہیں حکما ممنوع قرار دی گئیں، مسجد میں اصطبل بنائی گئیں، مسلمان عورتوں کی عصمت دری، مسلمانوں کا قتل اور لوٹ مار سکھوں کا روز مرہ کا مشغلہ تھا۔یہ تو پنجاب کی حالت تھی۔ہندوستان میں 1857ء کے سانحہ عظیم کے بعد کا زمانہ مسلمانوں کے لئے ابتلاء اور مصیبت کا زمانہ تھا۔وہ تحریک ہندوؤں کی اُٹھائی ہوئی تھی لیکن اِس کو ”جنگ آزادی کا نام دیا گیا اور یہ اثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس میں ہندوستانی مسلمان من حیث القوم پس پردہ شامل ہیں۔سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد انگریزوں نے زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی تھی۔اس لئے نئی حکومت کے دل میں متقدم حکومت کے ہم مذہب لوگوں کے بارہ میں شکوک و شبہات کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا۔اس پر 1857ء کا سانحہ مستزاد تھا۔دوسری طرف ہندو قوم تھی جو تعلیم و تربیت، صنعت و حرفت، سیاست و اقتصاد غرضیکہ ہر شعبہ میں مسلمانوں کے بالمقابل ترقی یافتہ تھی۔ہندوؤں نے مسلمانوں کا معاشرتی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔وہ مسلمانوں کے سیاسی زوال سے فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے سوچ رہے تھے۔یہ دور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے نازک ترین دور تھا۔پس ایک طرف ہندو قوم کی ریشہ دوانیاں، مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ، مسلمانوں پر ان کا علمی، سیاسی اور اقتصادي تفوق اور اُن کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے تھے اور دوسری طرف سکھوں کے جبر واستبداد اور وحشیانہ مظالم کے لرزہ خیز واقعات۔ان حالات میں انگریزی دورِ حکومت شروع ہوا۔انگریزوں نے اپنی حکومت کی ابتداء اس اعلان سے کی کہ رعایا کے مذہبی معاملات میں نہ صرف حکومت خود مداخلت نہیں کرے گی بلکہ دوسری قوموں کی طرف بھی ایک دوسرے کے