انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 32

انوار العلوم جلد 23 32 احرار کو چیلنج ”مرزائی چندہ دہندگان نے آواز بلند کی کہ جماعتی اراضی کو فروخت کر کے اس کی رقم جماعتی خزانہ میں جمع کی جائے“۔”مرزا محمود یہ رقم اپنے ذاتی خزانہ میں جمع کرنے کے لئے اس اراضی کو دجالانہ طریق پر فروخت کرنا چاہتے ہیں“۔اس مضمون کے شائع ہونے کے چند دن بعد 26 ستمبر کے "آزاد" میں اس خط کا چربہ بھی شائع کیا گیا جو میری اراضیات کے دفتر کے کلرک نے "الفضل " کو لکھا تھا اور جس میں مذکورہ بالا اراضی کی فروخت کا اعلان کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔اس خط کے چر بہ کے اوپر ایک نوٹ بھی ادارہ آزاد کی طرف سے شائع ہوا ہے کہ ہمارے اعلان پر " بعض مرزائی سیخ پا ہوئے اور خبر کو بے بنیاد بتانے لگے"۔ย اس لئے ہم اس خط کا چربہ شائع کرتے ہیں۔اگر احرار کی شہرہ آفاق غلط بیانیوں کا علم نہ ہوتا تو میرے لئے یہ مضمون اور اس چربہ کی اشاعت حیرت انگیز ہوتی کیونکہ اصل بنیاد اس مضمون کی یہ ہے کہ کوئی زمین میرے پاس ہے جسے میں فروخت کر رہا ہوں اور کسی کے پاس زمین کا ہونا کسی اسلامی حکم کے خلاف نہیں۔صحابہ کے پاس زمینیں تھیں، خودر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کے پاس باغ فدک تھا اور پھر زمینوں کا فروخت کرنا بھی قابل تعجب نہیں۔حدیثوں میں صحابہ اور تابعین کا اپنی زمینیں فروخت کرنے کا ذکر آتا ہے۔پس یقینا کسی صحیح الدماغ انسان نے "آزاد" سے اس امر کا ثبوت نہیں مانگا ہو گا کہ کیا امام جماعت احمدیہ کے پاس کوئی زمین ہے یا یہ کہ کیا وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ثبوت مانگا ہو گا تو اس بات کا مانگا ہو گا کہ آیا جماعت احمدیہ کے روپیہ سے خریدی ہوئی کسی زمین کو وہ اپنی ذات کے لئے فروخت کرنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ یہ بات یقیناً قابل اعتراض ہے اور اگر ایسا ثابت ہو جائے تو خلافت تو الگ رہی میں ایک شریف انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں رہتا لیکن یہ خیال کرنا کہ لوگوں نے "آزاد" سے اس بات کا مطالبہ شروع کر دیا کہ تم نے کیوں امام جماعت احمدیہ پر یہ اعتراض کیا کہ ان کے