انوارالعلوم (جلد 23) — Page 373
انوار العلوم جلد 23 373 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ انگریزی حکومت آئی اور اس نے ان سب مظالم کو ختم کر دیا۔اُن کے اس نیک سلوک کو دیکھنے کے بعد اگر بائی سلسلہ احمدیہ نے ان کی تعریف کی اور اُن کا مذہب میں دست اندازی نہ کرنا پسند کیا تو یہ کون سی عجیب بات ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے فرعونِ مصر کی نوکری کی تھی اور قرآن میں صاف آتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اس لئے نہیں روک سکتے تھے کہ قانونِ ملک اس کی ا اجازت نہیں دیتا تھا۔317 گویا یوسف علیہ السلام قانونِ ملک کے پابند تھے اور پابند رہنا چاہتے تھے۔اسی طرح مسیح علیہ السلام کے متعلق انجیل میں لکھا ہے کہ جب کچھ لوگوں نے منصوبہ کر کے اُن سے سوال کیا کہ کیا قیصر کو ہمیں ٹیکس دینا چاہئے یا نہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ تم مجھے ٹیکس کا سکہ دکھاؤ اور اس کو دیکھ کر کہا کہ اس پر تو قیصر کی تصویر ہے۔پس جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو دو۔318 خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حبشہ میں بھیجوا دیا۔ان لوگوں نے کئی سال تک اس حکومت کی اطاعت کی اور اس دوران میں جب حبشہ کے بادشاہ کو ایک دُشمن سے لڑائی پیش آئی تو مسلمانوں نے اُس سے درخواست کی لہ ہمیں بھی جنگ میں شامل ہونے دیا جائے کیونکہ ہم پر آپ کے احسانات ہیں اور اُنہوں نے اس کی کامیابی کے لئے دُعائیں کیں۔319 سید احمد صاحب بریلوی سے جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں سے جہاد کرنے کیوں جاتے ہیں؟ انگریز جو اس ملک پر حاکم ہیں کیا وہ اسلام کے منکر نہیں۔پھر آپ یہیں جہاد کیوں نہیں شروع کر دیتے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ انگریز مذہب میں دخل اندازی نہیں کرتے اس لئے اُن سے جہاد جائز نہیں لیکن سیکھ چونکہ مذہب میں دخل اندازی کرتے ہیں اس لئے میں اُن سے لڑتا ہوں۔320 پس اگر مرزا صاحب نے بھی انگریزوں کی تعریف کی اور اُن کی اطاعت کی تعلیم دی تو اس میں حرج کیا ہوا۔اُنہوں نے وہی کچھ کیا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے