انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 363

انوار العلوم جلد 23 363 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسلامی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاتا لیکن یہ علماء جس کو کافر کہیں وہ باوجو د کلمہ پڑھنے کے اور قسمیں کھانے کے کہ میں مسلمان ہوں، اسلامی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔دوسری مثال اس امر کے متعلق خوارج کی ہے۔خوارج کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قَوْمُ يُحْسِنُونَ الْقِيْلَ وَ يُسِيْتُوْنَ الْفِعْلَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيْهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّيْنِ مَرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّة“۔286 یعنی مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی پید اہو گی جو باتیں کرنے میں تو بڑی اچھی نظر آئے گی لیکن اُن کے افعال نہایت نا پسندیدہ ہوں گے۔وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے گلے سے نہیں اُترے گا اور وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانہ سے نکل جاتا ہے۔تاریخ سے ظاہر ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اس پر متفق تھے کہ یہ حدیث خوارج کے متعلق ہے لیکن باوجود اس کے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو کافر کہا پھر بھی اُن کو اسلامی حقوق سے محروم نہیں رکھا گیا۔انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی اور لازما سیاسی طور پر اُن سے جنگ کرنی پڑی لیکن جب ان کو شکست ہوئی اور اُن کے آدمی قید ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے ساتھ کا فر جنگ کرنے والوں کا سلوک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں والا کیا۔چنانچہ ابن قتیبه کتاب الامامت و السیاست“ میں لکھتے ہیں: اَخَذَ عَلِيٌّ مَا كَانَ فِى عَسْكَرِهِمْ مِنْ كُلِّ شَيْ ءٍ فَأَمَّا السّلاحَ والدواب فَقَسَّمَهُ عَلِيٌّ بَيْنَنَا وَ اَمَّا الْمَتَاعَ وَالْعَبِيدَ وَالَّا مَاءَ فَإِنَّهُ حِيْنَ قَدِمَ الكُوْفَةَ رَدَّةَ عَلَى أَهْلِم 287 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے لشکر کی تمام چیزوں پر قبضہ کر لیا۔ہتھیار اور جنگی سواریاں تو لوگوں میں تقسیم کروائے لیکن سامان و غلام اور لونڈیوں کو کوفہ واپس آنے پر اُن کے مالکوں کو لوٹا دیا۔اِس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اُن کے قیدیوں کو غلام نہیں بنایا گیا۔نہ مر دوں کو، نہ عورتوں کو ، نہ بچوں کو اور اُن کی جائدادیں ضبط نہیں کی گئیں، حالانکہ وہ باغی تھے۔، صرف اسلام کے نام کی وجہ سے اور کلمہ پڑھنے کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے