انوارالعلوم (جلد 23) — Page 331
انوار العلوم جلد 23 331 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ وفات پاچکے ہیں۔اگر یہ کہا جاوے کہ یہ گفتگو قیامت کے دن ہو گی تو پھر بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی وفات کے بعد عیسائی بگڑیں گے۔اگر یہ گفتگو قیامت کے دن ہو تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسی کی واپسی تک عیسائی نہیں بگڑے تھے بلکہ اُن کی وفات کے بعد بگڑے۔حالانکہ مسلمانوں کا تو یہ عقیدہ ہے کہ جب حضرت عیسی اتریں گے تو عیسائی بگڑ چکے ہوں گے اور وہ سب کفار کا خاتمہ کریں گے اور توحید کو قائم کریں گے یاسب کو مسلمان بنالیں گے۔پس خواہ یہ گفتگو کسی پہلے زمانہ کی طرف منسوب کی جائے یا قیامت کی طرف اس سے بہر حال اُن کی وفات ثابت ہے۔پھر اگر یہ گفتگو قیامت ہی کے دن کی مانی جائے تو کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہو گی کہ حضرت عیسی اس دُنیا میں آئیں گے، عیسائیوں کو سمجھائیں گے ، توحید کی طرف لائیں گے اور اسلام کو قائم فرمائیں گے لیکن پھر بھی قیامت کے دن اُن سے یہ سوال کیا جائے گا کہ کیا تُو نے لوگوں کو شرک کی تعلیم دی تھی اور اُن سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔اُن کی اس عظیم خدمت کے بعد یہ سوال کیا جانا کتنا حیران کن ہے اور اگر ایسا ہو تو کیا اس کا یہ جواب نہیں ہونا چاہئے کہ اے اللہ ! میں نے تو اپنی قوم کو مارا، اُن کے شرک کو دُور کیا اور توحید دُنیا میں قائم کی۔پھر بھی مجھ پر یہ الزام ہے کہ گویا میں نے لوگوں کو شرک کی تعلیم دی۔ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے رفع و نزول جسمانی کا عقیدہ صحیح ہونے کی حالت میں تو ان کی طرف سے یہی جواب ہونا چاہئے مگر اس جواب کا تو کوئی ذکر نہیں بلکہ بر خلاف اس کے قرآن شریف بتا رہا ہے کہ حضرت مسیح قیامت کے دن یہ جواب دیں گے کہ جب تک میں اُن میں موجود رہاوہ توحید پر قائم رہے، جب میں فوت ہو گیا تو پھر مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کے وہی معنی کرتے ہیں جو ہم نے کئے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میرے کچھ اشباع کو فرشتے سزا کے لئے لے جاویں گے اور میں اس پر فریاد کروں گا کہ یہ تو میرے اشباع ہیں۔اس پر مجھ سے