انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 332

انوار العلوم جلد 23 332 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کہا جائے گا کہ تجھے کیا خبر کہ تیرے بعد اُنہوں نے کیا کیا۔فَأَقَوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحَ وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَقِيبَ عَلَيْهِمْ کہ جس طرح خدا کے نیک بندے یعنی حضرت عیسی نے کہا ہے میں بھی کہوں گا کہ میں اپنی زندگی میں اپنی قوم پر گواہ تھا جب آپ نے مجھے وفات دی تو پھر آپ ہی اُن پر نگران تھے۔بخاری کی اس حدیث سے یہ امور ظاہر ہیں۔(1) یہ سوال بعثت نبوی سے پہلے ہو چکا تھا۔کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ جس طرح عیسی کہہ چکے ہیں اسی طرح میں بھی کہوں گا۔(2) مسیحی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بگڑ چکے تھے اور اس سے پہلے حضرت عیسی کی وفات ہو چکی تھی۔کیونکہ حضرت عیسی کے جواب میں اپنے وفات پانے اور مسیحیوں کے بگڑ جانے کا اقرار ہے۔(3) توفی کے معنے یقینا اس جگہ موت کے ہی ہیں کیونکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح ناصری کا حوالہ دے کر اپنی نسبت توفی کا لفظ استعمال فرماتے ہیں اور آپ کی وفات کے متعلق کوئی دورائیں مسلمانوں میں نہیں ہیں۔بعض لوگ غلطی سے توفی کے معنی وفات کے سوا کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔ایک حصہ کا جواب ہم دے چکے ہیں دوسرا حصہ اب بیان کریں گے اور وہ یہ ہے کہ عربوں کے نزدیک اس لفظ کے معنی وفات کے سوا اور کچھ نہیں۔چنانچہ اس کے لئے ہم جامعہ ازہر کے ایک بہت بڑے عالم علامہ محمود شلتوت کا فتویٰ پیش کرتے ہیں جس میں اُنہوں نے وضاحت سے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ عربی زبان بولنے والے توفی کے معنی موت کے سوا اور کچھ نہیں کرتے۔آپ اپنے شائع شدہ فتویٰ میں لکھتے ہیں کہ تَوَفَّيْتَنِی کا لفظ جو آیت قرآنیہ میں حضرت عیسی کی نسبت استعمال ہوا ہے۔اِس کا حق ہے کہ ہم اس کے وہی معنی کریں جو عربوں کے ذہن میں فوراً آتے ہیں اور وہ طبعی موت کے ہیں جسے سب لوگ جانتے ہیں اور جو تمام عربی زبان بولنے والے اِس لفظ اور اس کے استعمال سے سمجھتے ہیں اور اگر اس آیت میں اپنی طرف سے کوئی اور بات نہ ملائی جائے تو اس قول کو ہر گز صحیح