انوارالعلوم (جلد 23) — Page 320
انوار العلوم جلد 23 320 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اللہ تعالیٰ ہی علم غیب جاننے والا ہے اور وہ غیب کی خبریں کثرت سے کسی شخص کو نہیں دیتا سوائے ان کے جن کو اپنار سول بنانے کے لئے پسند کر لیتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔”جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔میں اُس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں۔ہاں میں اِس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے۔پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میر انام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔مگر بروزی صورت میں۔میر انفس در میان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اسی لحاظ سے میر انام محمد اور احمد ہوا۔پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔علیہ الصلوۃ والسلام “۔195 لفظ نبی کے بکثرت استعمال میں احتیاط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس لفظ کے استعمال میں تو اس قدر احتیاط برتی ہے کہ آپ نے اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی کہ عام بول چال میں میری نسبت نبی کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔یا درکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لعنت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم گفر نہیں۔مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھو کالگ جانے کا احتمال ہے “ 196 "