انوارالعلوم (جلد 23) — Page 313
انوار العلوم جلد 23 313 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ حضرت عیسی علیہ السلام اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے در میان جر جلیس اور خالد بن سنان دو نبی گزرے ہیں “۔ 181 قسطلانی شرح بخاری میں لکھا ہے کہ :- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا ہے کہ میں آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النسیتین ہوں۔ اس کے معنی ہیں مکمل شرائع الدین۔ میں دین کی شرائع کو مکمل کرنے والا ہوں “۔ 182 اسی طرح قسطلانی شرح بخاری جلد 6 صفحہ 21 مطبوعہ مصر 1304ھ پر لکھا ہے:۔ عیسی علیہ السلام کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ وہ آپ کے دین پر ہوں گے“۔ پھر لکھتے ہیں :۔ وو کہ چونکہ وہ آپ کے اتباع میں سے ہوں گے اس لئے ان کا وجود ختم نبوت کے مخالف نہیں ہو گا“۔ شیعہ لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ اُمت محمدیہ میں کسی نبی کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں۔ چنانچہ رسالہ غایۃ المقصود مصنفہ علامہ علی حائری میں لکھا ہے کہ :- هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَةً عَلَی الدِّینِ محلہ میں مہدی موعود کی پیشگوئی ہے اور رسول سے مراد مہدی موعود ہیں“۔ 183 اسی طرح تفسیر صافی میں بھی لکھا ہے کہ اِس آیت میں رسول سے مراد مہدی موعود ہیں۔ شیعہ صاحبان مہدی کو نہ صرف عام رسول قرار دیتے ہیں بلکہ اہم درجہ کار سول قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ حائری لکھتے ہیں کہ :- ”مہدی علیہ السلام کی افضلیت حضرت مسیح ناصری پر ثابت 66 اور واضح ہے “۔ 184 شیعوں کی کتاب اکمال الدین صفحہ 375 پر لکھا ہے کہ :-