انوارالعلوم (جلد 23) — Page 314
انوار العلوم جلد 23 314 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ انبیاء اور اولیاء میں سے ہادیوں کے آنے کی بندش ہر گز جائز نہیں۔جب تک انسان خدا کے حکموں کا مکلف ہے یہ لوگ بھی آتے رہیں گے“۔اسی طرح ایک حدیث میں جو شیعوں کی تفسیر اتنی کے صفحہ ۳۳ پر لکھی ہے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو لیا اور اُسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تجھ سے نبی پیدا کر تار ہوں گا، رسول پیدا کرتا رہوں گا، صالحین پیدا کرتا رہوں گا، ہدایت دینے والے ائمہ پیدا کرتا رہوں گا اور جنت کی طرف بلانے والے پیدا کرتا رہوں گا اور قیامت تک ایسا ہی کرتا چلا جاؤں گا اور ہر گز کسی کے اعتراض کی پرواہ نہیں کروں گا۔یعنی خدا نے جس دن دُنیا پیدا کی تھی اُسی دن اُس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ حافظ کفایت حسین صاحب اور شمسی صاحب کچھ کہتے رہیں، میں پھر بھی ارسالِ رُسُل اور ارسال مہدیتین سے دست کش نہ ہوں گا۔بحث کا خلاصہ مذکورہ بالا آیات اور احادیث اور اقوالِ صلحاء و اولیاء سے مندرجہ ذیل باتیں روز روشن کی طرح ثابت ہیں۔اول: قرآن کریم کی رُو سے ایک قسم کی نبوت کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور اس قسم کے انبیاء رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آتے رہیں گے۔دوم: رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ختم نبوت کے مقام پر اپنی بعثت کے بعد فائز نہیں ہوئے بلکہ کائنات کی ابتداء میں ہی آپ کو مقام نبوت عطا کیا گیا تھا اور جتنے نبی دُنیا میں آئے گو آپ کی پیدائش کے لحاظ سے وہ آپ سے پہلے گزرے ہیں لیکن ختم نبوت کے لحاظ سے وہ ختم نبوت کے بعد ہوئے ہیں۔سوم: رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی جو نئی شریعت لانے والا ہو یا آپ کی اطاعت سے باہر ہو ظاہر نہیں ہو گا۔چهارم: رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باوجود ختم نبوت کے اعلان کے مسلمانوں کے نزدیک نبی ظاہر ہو سکتا تھا جیسا کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم