انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 308

انوار العلوم جلد 23 308 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی بھی جو بارہویں صدی ہجری کے آخر میں گزرے ہیں فرماتے ہیں کہ :۔"رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خاتم النیتین کہا گیا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی شخص دُنیا میں ایسا نہیں ہو گا جس کو خدا دو تعالیٰ نئی شریعت دے کر لوگوں کی طرف بھیجے " 170 مولانا محمد قاسم بانی مدرستہ العلوم دیوبند جو تیر ہویں صدی ہجری کے آخر میں گزرے ہیں فرماتے ہیں کہ عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہو نا بائیں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں وَلكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ فرمانا اِس صورت میں کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقامِ مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تأخر زمانی صحیح ہو سکتی 66 ہے۔171 پھر فرماتے ہیں:۔اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا “۔172 ہم نے اوپر خاتم النبیین والی آیت کے جو معنی کئے ہیں اُن کی تصدیق بھی حضرت مولانا محمد قاسم کے اس قول سے ہو جاتی ہے: حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہو گا کہ ابوت معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت