انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 301

انوار العلوم جلد 23 301 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کیونکہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے یہ معنی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔نہ شرعی نہ غیر شرعی، نه بروزی نه مستقل، نہ انٹتی نہ غیر انتی۔حالانکہ یہ غلط ہے لیکن خاتم النبیین کے الفاظ سے یہ دھوکا نہیں لگتا۔اگر جیسا کہ علماء کہتے ہیں، خاتم النبیین کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ تم خاتم النبیین کہا کرولا نَبِيَّ بَعْدَهُ نہ کہا کرو اس کے معنی کیا ہیں؟ یہ تو ایک بالکل ہی بے معنی کلام ہو جاتا ہے۔ایک دوسری روایت بھی اس بارہ میں ابن ابی شیبہ نے نقل کی ہے اور امام سیوطی کی کتاب در منشور میں درج ہے۔اُس کے الفاظ یہ ہیں کہ ایک شخص مغیرہ بن شعبہ کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ محمد خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ پر اپنا درود بھیجے۔اس پر مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تُو خاتم الانبیاء کہہ کر ہی ختم کر دے تو یہ کافی ہے کیونکہ ہم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسی علیہ السلام آنے والے ہیں اگر وہ آئے تو آپ سے پہلے بھی وہ نبی ہوں گے اور آپ کے بعد بھی وہ نبی ہوں گے۔155 اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ خیال کرنا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، غلط ہے اور لَا نَبِيَّ بَعْدَہ کہنے سے اس خیال کو تقویت پہنچتی ہے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔لیکن خاتم النبیین سے یہ خیال ظاہر نہیں ہو تا کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر نہیں تھے کیونکہ وہ کہتے ہیں ”جب وہ نکلیں گے “۔شاید اُن کا یہ عقیدہ ہو کہ وہ زمین پر ہی کہیں چھپے بیٹھے ہیں۔جیسا کہ شیعہ صاحبان کا مہدی کے متعلق خیال ہے۔اسی طرح ابن الانباری نے کتاب المصاحف میں لکھا ہے کہ عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن اور حسین کو قرآن پڑھانے پر