انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 24

انوار العلوم جلد 23 24 پاکستان میں قانون کا مستقبل سیکھ لیا ہے یہ امر اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کے مقابلہ پر علم قانون کے مطالعہ کے لئے زیادہ توجہ اور زیادہ وقت صرف کریں۔دنیا کی آزاد اقوام نے علم قانون کے لمبے مطالعہ اور تجربہ کے بعد آخر کار اپنے ممالک کے قوانین کے لئے ایک مخصوص راستہ اور پس منظر پیدا کر لیا ہے جو کامل طور پر ان کی شخصی اور اجتماعی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔علاوہ اس کے ان میں وسیع اور گہر اعلم رکھنے والے ماہرین قانون موجو د ہیں جو اپنے لوگوں کے پرانے اختیار کردہ راستہ کے مطابق نئے پیدا ہونے والے دُشوار اور دقیق قانونی مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ایشیائی لوگوں کے لئے بہر حال یہ مشکل ہے کہ ان میں جو لوگ قانون کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کا علم بھی رکھتے ہیں وہ کوئی گزشتہ تجربہ اور قومی روایات نہیں رکھتے جن سے انہیں نئے قوانین بنانے میں مدد مل سکے۔پس ان کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے لئے ایک نیا راستہ بنائیں اور پھر ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کر کے ان پر قابو پائیں جو مبتدیوں کو پیش آتی ہیں۔میں سمجھتاہوں کہ پاکستان کے لوگوں کو اس راہ میں سب سے بڑی مشکل یہ پیش آئے گی کہ اس کے باشندوں میں ایک بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور پاکستان کی حکومت کسی فوجی یا ملکی فتح کے نتیجہ میں قائم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک معاہدہ کے ذریعہ سے معرض وجود میں آئی ہے اس لئے اپنے قوانین بناتے ہوئے پاکستان کو باوجود اپنی وسیع مسلمان اکثریت کے اس معاہدہ کا لحاظ رکھنا پڑے گاور نہ اس کو اس بات کا بجاطور پر ملزم گردانا جائے گا کہ اس نے ایک باہمی معاہدہ توڑ دیا۔جوش اور ولولہ اگرچہ ایک قابل تعریف خصلت ہے لیکن اس کا حد سے بڑھ جانا بھی غلط اقدام کا باعث بن جاتا ہے۔ترکی میں مذہب کا سیاست سے بالکل الگ کیا جانا دراصل اسی قسم کے غلط مذہبی جوش کا ردِ عمل تھا۔اسلام سے محبت اور اپنے ملک میں اس کے قیام کی خواہش یقیناً بہت اعلیٰ جذبات ہیں لیکن اگر ان ہی جذبات کو مناسب حدود سے تجاوز کرنے دیا جائے تو یہی ہمیں اسلام سے دور لے جانے کا باعث بن جائیں گے۔