انوارالعلوم (جلد 23) — Page 25
انوار العلوم جلد 23 25 پاکستان میں قانون کا مستقبل ہمارے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ والوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جو تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان کفر اختیار کر لے تو اسے مکہ جانے کا پورا اختیار ہو گا لیکن اس کے برعکس اگر کوئی کافر اسلام لے آئے تو اسے مدینہ کی اسلامی ریاست میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ اسے اس کے وارثوں اور رشتہ داروں کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا۔یہ شرط مسلمانوں کے لئے بظاہر نقصان دہ اور ذلیل کن معلوم ہوتی تھی اور انہوں نے اس ہتک کو محسوس بھی کیا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے لیڈر بھی کچھ وقت کے لئے تذبذب میں پڑ گئے۔ابھی اس معاہدہ پر دستخط ہوئے ہی تھے کہ ایک نوجوان جس کا نام ابو جندل تھا بیڑیوں میں جکڑا ہوا بمشکل تمام اس مجلس میں آپہنچا جہاں اس کے باپ سہیل نے ابھی ابھی مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔سہیل نے فوراً مطالبہ کیا کہ معاہدہ کے مطابق ابو جندل کو مکہ واپس کیا جائے۔مسلمانوں نے جب اس معاہدہ کا عملی پہلو دیکھا تو اسے نہایت خطرناک اور ذلیل کن خیال کیا اور ابو جندل کی حفاظت میں فوراً تلواریں کھینچ لیں لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا اور فرمایا:- ”خدا کے رسول اپنا عہد کبھی تو ڑا نہیں کرتے“۔1 اور مسلمانوں کی جذبات انگیز درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ابو جندل کو اس کے باپ کے حوالے کر دیا۔اس لئے ایک پاکستانی مسلمان خواہ کتنا ہی مخلص اور دینی جوش رکھنے والا ہو کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اسلام کی محبت اور خیر خواہی میں اتنا گداز ہے جتنا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں ہمارے لئے خود ایک اعلیٰ نمونہ چھوڑ گئے ہیں۔اگر ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی نظر میں ویسا ہی اچھا مسلمان ثابت ہونا چاہتا ہے جیسا کہ وہ خود گمان کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ لفظی اور معنوی طور پر ان تمام معاہدات اور وعدوں کو پورا کرے جو پاکستان بننے کے وقت اقلیتوں اور دوسری قوموں سے کئے گئے تھے اگر وہ ان وعدوں کے ایفاء سے