انوارالعلوم (جلد 23) — Page 270
انوار العلوم جلد 23 270 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور تجارت میں بھی انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقے کا طرزِ عمل سوادِ اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور اُن اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمتِ اسلام کی بلند بانگ و باطن پیچ ، دعاوی کے خوگر ہیں۔مشعل راہ ثابت ہو گا “۔82 مولانا ظفر علی خان مدیر ”زمیندار باوجود اس حقیقت کے کہ مولوی ظفر علی صاحب احمدیت کے شدید مخالفوں میں سے ہیں انہوں نے فتنہ ارتداد (یو۔پی) 1923ء کے موقع پر جماعت احمدیہ کی خدمات اسلامی کو سراہتے ہوئے اخبار ”زمیندار“ میں متعدد مقالے لکھے جن کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں: (الف) مسلمانانِ جماعت احمد یہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں جو ایثار ، کمر بستگی، نیک نیتی اور توکل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے انداز عزت اور قدر دانی کے قابل ضرور ہے۔جہاں ہمارے مشہور پیر اور سجادہ نشین حضرات بے حس و حرکت پڑے ہیں۔اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمتِ اسلام کر کے دکھادی“۔83 (ب) ”احمدی بھائیوں نے جس اخلاص، جس ایثار، جس خوشی اور جس ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے“۔(ج) گھر بیٹھ کر احمدیوں کو بُرا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اِس کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان اور دیگر یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں۔کیا ندوۃ العلماء دیوبند ، فرنگی محل اور دوسرے علمی اور دینی مرکزوں سے