انوارالعلوم (جلد 23) — Page 234
انوار العلوم جلد 23 234 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور مجبوری حسن کمال سے محروم کر دیتی ہے۔پس اس کے کامل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور طریق اختیار کیا کہ اُس کے اندر خیر و شر کے دونوں مادے پیدا کر دیئے اور اس کی راہنمائی کے لئے اُسے دو مددگار طبعی اور دو مددگار فوق الطبعیات عطا فرمائے تاوہ اُن کی مدد سے خدا تعالیٰ تک پہنچے اور اپنے اخلاق کو کامل کرے اور اپنی ذمہ داری کو ادا رے۔پہلا طبعی مددگار وہ معائنہ اور فکر کو قرار دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَةٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ 1 یعنی زمین اور آسمان کی پیدائش اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عظمندوں کے لئے بہت سے نشانات مخفی ہیں۔اُن لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کو کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور لیٹے ہوئے بھی یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرتے ہیں۔یعنی طبعیات پر غور اور اُس کے تغیر و تبدل پر فکر کرنا بھی ہدایت اور صحیح علم کا ایک ذریعہ ہے۔, دوسرا ذریعہ فرماتا ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقويها 2 یعنی انسان کے اندر اُس نے ایک ایسا مادہ رکھ دیا ہے جس سے وہ اچھے اور بُرے میں تمیز کرتا اور ہدایت کی راہیں معلوم کرتا ہے یعنی انسان کے اندر شعور اور تمیز پیدا کی گئی ہے جس سے وہ صدق و باطل میں فرق کر سکتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس آیت میں کہ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا 3 اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی فطرت وہی ہے جسے لے کر انسان پیدا ہوتا ہے جو بعد میں اس پر رنگ آمیزی کی جاتی ہے اور اس پر تعصب کا رنگ چڑھایا جاتا ہے وہ خدا کی دین نہیں۔بی نتیجے پر پہنچنے کے لئے صرف بیرونی اثرات سے خالی اور آزاد دماغ ہی کام دیتا ہے جسے لے کر بچہ پید ا ہو تا ہے۔دو مافوق الطبعیات ذرائع اُس نے الہام اور نبوت پیدا کئے ہیں یعنی انسان جب خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسے راہنمائی ملتی ہے۔جیسے فرمایا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔4 جو لوگ سچے طور پر ہماری ملاقات کے لئے کوشش کرتے ہیں ہم اُن کے لئے اپنی طرف راہنمائی کرنے والے اسباب پیدا