انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 233

انوار العلوم جلد 23 233 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ وو ” اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ اسلام کا بنیادی نظریہ متعلق مسئلہ نبوت کا (از افاضات حضرت خلیفتہ المسیح الثانی۔یہ اس دستاویز کا ابتدائی حصہ ہے جو تحقیقاتی عدالت، فسادات پنجاب 1953ء میں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے داخل کی گئی تھی) اسلام ایک کلیاتی مذہب ہے یعنی وہ صرف متفرق احکام نہیں دیتا بلکہ وہ دُنیا کی پیدائش کے مقصد اور شریعت کی ضرورت اور انسانی ذمہ داریوں کی حد بندیوں اور انسانی پیدائش کی غرض اور اُس کی فطرت کی حقیقت اور سوسائٹی کے مقابلہ میں اُس کا مقام اور اُس کے مقابلہ میں سوسائٹی کا مقام اور اُس کے آخری انجام کو بھی بیان کرتا ہے۔وہ اس پر بحث کرتا ہے کہ دنیا بلا وجہ اور بلا مقصد پیدا نہیں کی گئی۔کائنات کی پیدائش ایک بشر کامل کی پیدائش کے لئے تھی۔بشر کامل سے مُراد اور بشر کامل سے مُراد ایسا وجود تھا جو خدا تعالیٰ کی صفات کو دُنیا میں ظاہر کرنے والا ہو اور جو خدا تعالیٰ کی طرف جھکے اور خدا جس کی طرف جھکے اور اس طرح دو محبتوں کی وجہ سے وہ انسان کہلائے جو اصل میں انْسَانِ“ ہے یعنی دو محبتوں کا مجموعہ۔اول اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس سے۔دوم اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ سے بھی محبت کرتا ہے اور اُس کی مخلوق سے بھی۔پھر وہ یہ بتاتا ہے کہ کمال کے معنے یہ نہیں کہ اس سے قصور نہیں ہو سکتا کیونکہ قائم وَحَى بالذات تو ان معنوں میں بے عیب ہو کر بھی کامل کہلا سکتا ہے مگر مخلوق ان معنوں میں بے عیب ہو کر کامل نہیں کہلا سکتی بلکہ بوجہ مخلوق ہونے کے مجبور کہلائے گی