انوارالعلوم (جلد 23) — Page 226
انوار العلوم جلد 23 226 مشرقی افریقہ کے باشندوں کو دعوت اسلام چنانچہ یہ وفد حبشہ گیا اور درباریوں خصوصا پادریوں کے ذریعہ سے بادشاہ سے ملا جو اُس زمانہ میں نیگس کہلاتا تھا۔جسے عرب لوگ نجاشی کہتے تھے۔یہ اُس بادشاہ کا نام نہیں تھا بلکہ یہ اُس زمانہ کے حبشی بادشاہوں کا لقب ہو تا تھا۔چنانچہ بادشاہ کے سامنے اُنہوں نے شکایت کی کہ اُن کے ملک کے کچھ باغی بھاگ کر حبشہ آگئے ہیں اور انہیں مکہ والوں نے اس لئے بھیجا ہے کہ ان باغیوں کو مکہ کی حکومت کے حوالہ کر دیا جائے۔بادشاہ نے ان لوگوں کی باتیں سُن کر مسلمانوں کو بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ وہ کس طرح آئے ہیں؟ اُنہوں نے بتایا کہ اُن پر اُن کی قوم ظلم کر رہی تھی اور چونکہ افریقن بادشاہ کا انصاف اور اس کا عدل مشہور تھا وہ اس کے ملک میں پناہ لینے کے لئے آگئے۔اس پر بادشاہ نے مکہ کے وفد کو جواب دیا کہ چونکہ ان کے خلاف کوئی سیاسی مجرم ثابت نہیں صرف مذہبی اختلاف ثابت ہے اس لئے وہ ان کو واپس کرنے کے لئے تیار نہیں۔مکہ کا وفد جب دربار سے ناکام لوٹا تو اس نے درباریوں اور پادریوں کو بھی تحفے تقسیم کئے اور اُنہیں اُکسایا کہ یہ مسلمان لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کی بھی ہتک کرتے ہیں اس لئے مسیحیوں کو بھی مکہ والوں کے ساتھ مل کر ان پر سختی کرنی چاہئے۔چنانچہ دوسرے دن پھر درباریوں نے بادشاہ پر زور دیا کہ یہ لوگ تو مسیح کی بھی ہتک کرتے ہیں۔چنانچہ بادشاہ نے مسلمانوں کو پھر بُلوایا اور اُن سے پوچھا کہ آپ لوگ مسیح کے بارہ میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں ؟ مسلمانوں نے سورۃ مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر اس کو سنائیں جن میں مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے اور پھر کہا کہ ہم مسیح کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ہاں انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔اس پر پادریوں نے شور مچادیا کہ دیکھو انہوں نے مسیح کی ہتک کی ہے مگر افریقن بادشاہ منصف مزاج اور عادل تھا۔اُس نے سمجھ لیا کہ یہ الزام ان پر غلط لگایا جارہا ہے۔یہ لوگ مسیح کا ادب کرتے ہیں مگر اُس کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔چنانچہ اس نے بڑے جوش سے ایک تنکا فرش پر سے اُٹھایا اور کہا کہ خدا کی قسم! میں بھی مسیح کو وہی کچھ مانتا ہوں جو یہ کہتے ہیں اور میں اس درجہ سے جو انہوں نے مسیح کا بیان کیا ہے اس سے ایک تنکے