انوارالعلوم (جلد 23) — Page 225
انوار العلوم جلد 23 225 مشرقی افریقہ کے باشندوں کو دعوت اسلام ” اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ مشرقی افریقہ کے باشندوں کو دعوتِ اسلام محررہ 18 جنوری 1953ء) سواحیلی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کے مضمون کے متعلق مختصر نوٹ شائع کئے جارہے ہیں۔افریقہ کو اسلامی تاریخ میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔خصوصاً شمال مشرقی افریقہ کو اسلام کے ابتدائی ایام میں جب مکہ والوں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے مظالم کئے اور مکہ میں مسلمانوں کی رہائش ناممکن ہو گئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے ارشاد سے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف جانے کی ہدایت فرمائی۔حبشہ یعنی ایسے سینیا وہ ملک ہے جو کہ کینیا کالونی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔چنانچہ جب مسلمان اس ملک میں پہنچے اور وہاں کے بادشاہ کے قانون کے ماتحت انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی گئی اور امن کا سانس انہوں نے لینا شروع کیا تو مکہ والوں سے یہ بات برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے اپنی قوم کے دو لیڈروں کو بادشاہ اور اس کے درباریوں کے لئے بہت سے تحائف دے کر بھجوایا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ بادشاہ سے درخواست کریں کہ وہ مہاجرین مکہ کو مکہ کی حکومت کے حوالے کر دے تاکہ وہ ان سے اپنے خیالات اور عقائد کے مطابق سلوک کریں اور اگر بادشاہ نہ مانے تو پھر درباریوں کو تحفے دے کر ان سے بادشاہ پر زور ڈلوائیں اور مسلمان مہاجرین مکہ کو جس طرح بھی ہو واپس مکہ لائیں۔