انوارالعلوم (جلد 23) — Page 17
انوار العلوم جلد 23 17 سب کا فرض ہے کہ وہ درس القرآن میں شامل ہوا کریں حلوائی سے دریافت کیا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو ؟ اس نے کہا میں لچیاں تل رہا ہوں۔زمیندار نے دیکھا کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے پیڑوں کی ٹکیاں بنا کر مل رہا ہے اور انہیں لچیاں کہتا ہے۔اس نے آٹا کی گرہ کھولی جو چادر کے ایک طرف باندھا ہوا تھا اور آٹے کا ایک بڑا سا پیڑا بنا کر زور سے کڑاہی میں دے مارا اور کہا میرا بھی لچ تل دے۔حلوائی کا ہاکڑاہی سے باہر جاپڑا اور وہ شور مچانے لگ گیا۔تمہاری دُعا بھی ایسی ہی ہے۔کچھ تو سارا ماہ لچیاں تلتے رہے یعنی درس دیتے رہے۔کچھ لچیاں خریدتے رہے یعنی درس سنتے رہے لیکن جب آخری دن آیا تو تم نے بھی اپنا آٹا کڑاہی میں دے مارا کہ میرا بھی بچ تل دو۔تم سمجھ سکتے ہو کہ ایسی حالت میں تمہارے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔یہی ہو گا کہ تمہیں جیل خانہ بھیج دیا جائے گا۔غرض رسموں کا طریق مردہ قوموں کا طریق ہوتا ہے ہمارا طریق نہیں۔اگر تمہارے اندر جرآت ہوتی تو جیسے تم پہلے نہیں آئے آج بھی نہ آتے۔اگر تیس دن گناہ میں تم نے اپنے آپ کو منافق نہیں بنایا تو آج تم اپنے آپ کو کیوں منافق بناتے ہو۔آج بھی تم میں جرات ہونی چاہئے تھی کہ اگر سارا ماہ تم نہیں آئے تو آج بھی تم یہاں نہ آتے۔اگر تم ایسا کرتے تو یہ بات تمہارے لئے زیادہ نیکی کا موجب ہوتی۔اگر تم ایسا کرتے تو اگلے سال تمہیں خیال آتا کہ میں بھی درس میں جاؤں تا دُعا میں شریک ہو سکوں۔اگر تم چھ دن مسجد میں نہیں آتے لیکن جمعہ کے دن آجاتے ہو تو ہم کہیں گے تم نے ایک دن تو نیکی کر لی ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن کریم میں ہے لیکن اس دُعا کا حکم قرآن کریم میں نہیں، اس دُعا کا حکم حدیث میں نہیں۔یہ دُعا تبھی دُعا کہلا سکتی ہے جب تم تیں دن قرآن کریم سنتے ، پڑھتے اور پھر خدا تعالیٰ سے اپنے لئے رحم طلب کرتے۔اگر تم ایسا کرتے تو تمہاری یہ بات طبعی ہوتی۔اگر تم روٹی پکاتے ہو تو تمہارا حق ہے کہ تم روٹی کھاؤ لیکن یہ نہیں کہ تم روٹی تو نہ پکاؤ لیکن اپنے ہمسائے کی روٹی لے کر کھالو۔اگر تم روٹی پکاتے تو تمہارا حق تھا کہ آج آتے اور روٹی کھاتے لیکن یہ نہیں کہ آٹا کسی نے گوندھا، روٹی تو کسی نے پکائی اور روٹی کھانے کے لئے تم آجاؤ یعنی درس کسی نے دیا، گلا کسی نے بٹھایا،