انوارالعلوم (جلد 23) — Page 218
انوار العلوم جلد 23 بھی بڑھے گی اور اُن کی بھی۔ 218 تعلق بالله (10) دسواں طریقہ محبت الہی کے حصول کا دعا ہے جو ساری کامیابیوں کی جڑ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آخِرُ الدَّوَاءِ الْكَى 105 کہ آخری علاج داغ دینا ہوتا ہے۔ اِسی طرح سارے کاموں کا آخری انحصار دعا پر ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکے اور اُس سے کہے کہ الہی ! تیر اوجود مخفی ہے میری عقل سخت نا قص اور نا تمام ہے مگر میرے دل کے مخفی گوشوں میں تیرے وصال کی ایک نہ مٹنے والی خواہش پائی جاتی ہے۔ میرا دل تجھ سے ملنے کے لئے بیتاب ہے میں چاہتا ہوں کہ تیری محبت کو حاصل کروں۔ مگر اے میرے رب ! میری کوششیں اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک تیرے فضل میرے شامل حال نہ ہوں۔ پس تو اپنی محبت سے مجھے حصہ عطا فرما اور مجھے اُن لوگوں میں شامل فرما جو تیرے مُحِبّین کے پاک گروہ میں شامل ہیں۔ چنانچہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِى حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ وَحُبَّ مَا يُقَرِّبُنِي إِلَيْكَ وَاجْعَلْ حَبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ 106 اللَّهُمَّ ارْزُقْنِی حَبَّكَ یعنی اے میرے خدا! مجھے اپنی محبت عطا فرما وَ حَبَّ مَنْ اَحَبَّكَ اور اے خدا جو تجھ سے محبت کرتے ہیں میرے دل میں تو اُن کی محبت بھی ڈال دے وَحْبَّ مَا يُقَرِّ بُنِی اِلَيْكَ اور ان کاموں کی اور ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی اور ان قربانیوں اور نیکیوں کی بھی میرے دل میں محبت ڈال دے جن سے تیری محبت پیدا ہوتی ہے وَاجْعَلْ حَبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ اور اے میرے رب ! اپنی محبت میرے دل میں اُس سے بھی زیادہ پیدا کر دے جتنی شدید گرمی کے موسم میں انسان کو ٹھنڈے پانی کی محبت ہوتی ہے۔ الْمَاءِ الْبَارِدِ کے معنی ٹھنڈے پانی کے بھی ہیں اور ماء کو حیات کا مرکز بھی قرار دیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَی 107 ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا ہے۔ پس یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الْمَاءِ الْبَارِدِ سے یہاں صرف جسمانی پانی مراد نہ ہو بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا