انوارالعلوم (جلد 23) — Page 15
انوار العلوم جلد 23 15 سب کا فرض ہے کہ وہ درس القرآن میں شامل ہوا کریں حق بھی رکھتے تھے کہ دُعا میں حصہ لیں لیکن وہ لوگ جو آج سینکڑوں کی تعداد میں آئے ہوئے ہیں وہ یقیناً ایک رسم کے ماتحت آئے ہیں۔جس شخص نے درس دیا ہے یا جن لوگوں نے روزانہ درس سنا ہے ان کے لئے تو دعا کا موقع ہے لیکن باقی لوگوں کے لئے یہ محض ایک رسم ہے دُعا کا کوئی موقع نہیں اور رسم پر چلنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔اگر چہ وقت کم ہے اور لوگوں نے روزہ افطار کرنا ہے اس لحاظ سے ضروری ہے کہ دس بارہ منٹ روزہ افطار ہونے سے قبل دعا کر دی جائے لیکن تاہم میں نے اس کے متعلق کچھ بیان کرنا مناسب سمجھا۔میری طبیعت پر ہمیشہ گرانی سی رہتی ہے اور میں چٹی سمجھ کر دُعا کے لئے آتا رہا ہوں کیونکہ میں ابھی تک اس اجتماع کی حکمت کو نہیں سمجھ سکا۔نہ قرآن کریم کی کوئی آیت مجھے اس کی تصدیق میں ملی ہے اور نہ کوئی حدیث مجھے اس کی تصدیق میں ملی ہے۔ہاں جنہوں نے قرآن کریم پڑھایا ہے یا قرآن کریم کا درس منا ہے ان کی دُعا تبر کا قبول ہو سکتی ہے۔یوں پڑھنے والے گھروں پر قرآن پڑھتے ہی ہیں مثلاً ہم نے بھی قرآن کریم ختم کئے ہیں۔چنانچہ ہمیشہ میں نے دیکھا ہے کہ رمضان میں پانچ سات بلکہ آٹھ نو دفعہ قرآن کریم ختم ہو جاتا ہے۔اس دفعہ بھی بیماری اور ضعف کے باوجو د میں نے پانچ دفعہ قرآن کریم ختم کیا ہے اور مجھے حق ہے کہ اس موقع پر میں دُعا کروں لیکن اس مجلس میں نہیں کیونکہ میں نے اس مجلس میں قرآن کریم نہیں سنا۔میں نے گھر میں قرآن کریم پڑھا ہے اور گھر میں دُعائیں بھی کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ انہیں قبول بھی فرماتا ہے لیکن تم میں بہت سے ایسے لوگ بیٹھے ہیں جنہوں نے نہ تو روزہ رکھنے کی کوشش کی اور نہ یہاں آکر قرآن کریم سننے کی کوشش کی۔خود تو ان میں یہ قابلیت نہیں تھی کہ وہ قرآن کریم سمجھ سکتے ان کے لئے موقع تھا کہ وہ یہاں آتے اور قرآن کریم سُنتے لیکن وہ یہاں نہیں آئے۔جو میرے پاس رپورٹیں آتی رہی ہیں ان میں یہی لکھا ہوتا تھا کہ دو تین سو آدمی درس سننے کے لئے آتے ہیں لیکن اس وقت دو تین ہزار کا مجمع ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ہر دس میں سے نو آدمی یہاں کیوں آئے ہیں اور آخر اُنہوں نے کیا کام کیا ہے کہ آج خدا تعالیٰ اُن کی دُعائنے۔ہاں جنہوں نے قرآن کریم سنا ہے