انوارالعلوم (جلد 23) — Page 14
انوار العلوم جلد 23 14 سب کا فرض ہے کہ وہ درس القر آن میں شامل ہوا کریں ثواب کو بڑھانے والا ہے لیکن اگر آج کا اجتماع روزانہ کے اجتماع کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔اگر جتنے لوگ اب جمع ہوئے ہیں ان کا بیسواں حصہ بھی روزانہ درس میں جمع نہیں ہوتے تھے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم نے بھی ایک رسم کو اختیار کر لیا ہے جیسے دوسرے لوگوں نے تراویح کو تہجد کا قائمقام بنالیا۔آخر کیا فائدہ ہے اس دُعا کا اور کیا نتیجہ ہے جو ایسی دُعا سے نکل سکتا ہے۔آخر ہمارا خدا کوئی بھولا بھالا بچہ تو نہیں۔تم ایک بچہ کو بعض دفعہ پیسہ دے کر کہتے ہو کہ یہ روپیہ ہے تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔تم بعض دفعہ اپنی خالی انگلیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ مٹھائی ہے تو وہ ہنس دیتا ہے۔کیا اسی طرح تم بھی یہ خیال کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے اس دھوکا میں آجائے گا تم اسے پیسہ دے کر کہو گے کہ یہ روپیہ ہے اور وہ دھو کا کھا جائے گا۔تم اس کے ہاتھ میں خالی انگلیاں رکھ دو گے اور کہو گے یہ مٹھائی ہے تو وہ ہنس دے گا۔آخر یہ قرآن کریم کے کس پارہ اور کس سورۃ میں آتا ہے کہ رمضان میں قرآن کریم کے ختم ہونے پر سب مل کر دُعا کرو تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔یا کونسی حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ آخری روزہ کو عصر کے وقت دُعا کرو تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کر لیتا ہے۔صحاح ستہ تو کیا کسی کمزور سے کمزور روایت میں بھی اس دُعا کا ذکر نہیں۔حدیثوں میں یہ تو آتا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ اس میں جو دُعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے ، حدیثوں میں یہ تو آتا ہے کہ رمضان میں لیلۃ القدر آتی ہے اس رات جو دُعا کی جائے وہ قبول کی جاتی ہے۔2 اسی طرح قرآن کریم میں یہ تو آتا ہے کہ رمضان کی راتوں میں خصوصاً لیلۃ القدر میں دُعائیں قبول ہوتی ہیں لیکن میں نے نہ قرآن میں، نہ حدیث میں اور نہ اسلام میں کسی اور جگہ یہ دیکھا ہے کہ رمضان کے آخری دن تم اکٹھے ہو جایا کرو تو اس دن تم جو دُعا کرو گے وہ قبول ہو جائے گی۔میں خود درس دیا کرتا تھا تو آخر میں دُعا بھی کر لیا کرتا تھا کیونکہ اُس وقت میر ادعا کرنا رسم نہیں تھا لیکن اب جبکہ میں درس نہیں دیتا جب مجھے دُعا کے لئے بلایا جاتا ہے تو میری طبیعت پر سخت گراں گزرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ دُعا محض ایک رسم کے اختیار کر لی گئی ہے۔جو لوگ درس دیتے رہے ہیں یا جو روزانہ درس سنتے رہے ہیں وہ تو کچھ نہ کچھ