انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 192

انوار العلوم جلد 23 192 تعلق باللہ پیاسے اور ننگے اور بیمار تھے اور تم نے اُن کی خدمت کی۔پس گو تم نے میرے بندوں کے ساتھ یہ سلوک کیا مگر یہ ایسا ہی تھا کہ گویا تم نے مجھ سے یہ سلوک کیا ہے۔اِس مثال سے بھی ظاہر ہے کہ مخلوق کی محبت سے خالق کی محبت ملتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے کہ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ 88 جب کوئی شخص محسن ہو جاتا ہے اور بنی نوع انسان سے حسن سلوک کرنے لگ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔جب تم کسی سے محبت کرنے لگو تو بتاؤ کہ کیا تمہارا دل چاہتا ہے کہ تم تو اس سے محبت کرو لیکن وہ تم سے محبت نہ کرے۔جب تم کسی سے محبت کرو گے تو لازماً تمہارا دل چاہے گا کہ وہ بھی تم سے محبت کرے لیکن دنیا میں تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم زید سے محبت کرو اور زید تم سے محبت نہ کرے۔تم ایک شخص کو چاہو اور وہ تمہیں نہ چاہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا ایک بات چاہے اور وہ نہ ہو۔جب خدا کہتا ہے کہ جو شخص محسن ہو جاتا ہے میں اُس سے محبت کرتا ہوں تو یہ ناممکن ہے کہ تم محسن بنو اور خدا تم سے محبت نہ کرے اور اس کی محبت کے نتیجہ میں تمہارے دل میں بھی ضرور محبت پیدا ہو گی اور تم بھی اُس سے محبت کرنے لگ جاؤ گے۔یہ تو عام قاعدہ بھی ہے مگر خدا تعالیٰ کی تو یہ شان ہے کہ اِذا اَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ 89 (4) گناہ پر ندامت کی عادت ڈالنا یعنی کوئی گناہ ایسانہ ہو جس کے بعد ندامت نہ ہو۔اس سے بھی محبت الہی پیدا ہوتی ہے کیونکہ جو شخص گناہ پر نادم ہو اُس کے اندر آہستہ آہستہ حسن کے دیکھنے اور قدر کرنے کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔جو شخص گناہ کرتا ہے اور پھر اُس کے اندر ندامت پیدا نہیں ہوتی اس کے معنی یہ ہیں کہ اُس نے بُری تصویر دیکھی مگر اُس نے سمجھا ہی نہیں کہ یہ بڑی تصویر ہے اور جس میں ندامت پیدا ہوتی ہے اُس کے متعلق ماننا پڑے گا کہ اُس میں یہ احساس ہے کہ وہ بُری چیزوں کو بُری سمجھتا ہے اور جب وہ بُری چیزوں کو بُری سمجھے گا تو لازماً اچھی چیز دیکھ کر اُسے اچھی سمجھے گا۔جب یہ مادہ کسی شخص کے اندر پیدا ہو جائے اور وہ حسن کو دیکھنے لگے تو پھر خدا تعالیٰ کی محبت کا دروازہ آپ ہی کھل جاتا ہے کیونکہ وہ سب سے بڑا محسن اور سب سے بڑا حسین