انوارالعلوم (جلد 23) — Page 191
انوار العلوم جلد 23 191 تعلق باللہ یہ خیال کرتے ہوں کہ میں نے تہذیب کے خلاف حرکت کی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان نکالی تھی تو اُس وقت بھی بعض ایسے ہی خیالات رکھنے والے لوگ کہتے ہوں گے کہ یہ کیسی تہذیب کے خلاف بات ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کی اور فرمایا میرے رب کی طرف سے تازه نعمت آئی ہے میں کیوں نہ اسے اپنی زبان پر لے لوں۔اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کا قطرہ اپنی زبان پر نہیں لیا بلکہ در حقیقت خدا کی نعمت لی اور میں نے بھی اپنی زبان نکال کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ایک فعل کیا ہے تا کہ تمہیں یہ احساس ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی کس طرح قدر کیا کرتے تھے۔اسی مفہوم پر وہ آیت دلالت کرتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتی ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ 27 اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تو اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کرلے گا کہ میرے یہ بندے ایمان نہیں لائے؟ گویا خیال کر کے کہ یہ مجھ سے دور ہیں اور میرے لئے ناخوشی کا موجب ہیں تو آپ مرا جا رہا ہے۔اس طرح سے بین السطور اِس آیت کا یہ ہے کہ جب تو میری مخلوق کے غم میں مرا جا رہا ہے تو میں تجھ سے پیار کیوں نہ کروں۔دنیا میں اور لوگ بھی لوگوں کے مومن نہ ہونے پر غم کرتے ہیں مگر اُن کا غم اُن کے ہدایت نہ پانے نہیں ہو تا بلکہ اپنی بات کی ناکامی پر ہوتا ہے اور دونوں غموں میں بڑا بھاری فرق ہے۔ایک میں غصہ ہوتا ہے اور ایک میں رنج۔پھر جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حدیث قدسی میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض بندوں سے کہے گا کہ جب میں بھوکا تھا تو تم نے مجھے کھانا کھلایا۔جب میں پیاسا تھا تو تم نے مجھے پانی پلایا اور جب میں بیمار تھا تو تم نے میری عیادت کی۔بندے کہیں گے کہ خدایا! تو کب بھوکا ہوا کہ ہم تجھے کھانا کھلاتے۔تو کب پیاسا ہوا کہ ہم تجھے پانی پلاتے۔تو کب نگا ہوا کہ ہم تجھے کپڑے پہناتے۔تو کب بیمار ہوا کہ ہم تیری عیادت کرتے۔تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے کچھ بندے دنیا میں ایسے تھے جو بھوکے اور