انوارالعلوم (جلد 23) — Page 190
انوار العلوم جلد 23 190 تعلق باللہ تشریف رکھئے اور پھر وہ تم سے محبت کے ساتھ باتیں کرنے لگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے مخلوقِ الہی سے اگر نیک سلوک کرو تو اللہ میاں تم سے آپ کہیں گے کہ آؤ میاں میرے پاس بیٹھو۔اصلی صوفیاء نے اسی کا نام عشق مجازی رکھا تھا لیکن جھوٹے صوفیاء نے افراد کی محبت اور اُن سے عشق کا نام عشق مجازی رکھ لیا۔حالانکہ جب صوفیاء نے یہ کہا تھا کہ عشق حقیقی پیدا کرنے کے لئے عشق مجازی ضروری ہے تو اُن کا مطلب صرف یہ تھا کہ بندوں کی حقیقی محبت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہو سکتی۔نہ یہ کہ کسی حسین لڑکے یا حسین عورت سے جب تک محبت نہ کی جائے اللہ تعالیٰ بھی انسان سے محبت نہیں کر سکتا۔یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نکتہ تھا جسے گندی شکل دے کر جاہلوں اور اوباشوں نے دین کی ہتک کی اور اپنی ہوس رانی کی راہ نکال لی۔رحقیقت یہ محبت بسیط ہے یعنی کسی خاص شخص کی محبت نہیں بلکہ بنی نوع انسان بلکہ مخلوقات کا تصور کر کے یہ خیال کرنا کہ یہ میرے خدا کے پیارے ہیں مجھے خدا تعالیٰ تو نہیں ملتا چلو میں اِن سے محبت کروں اس محبت کا سر چشمہ ہے۔ایسی محبت کرتے کرتے یکدم محبت الہی شعلہ مار کر تیز ہو جاتی ہے۔پس بے شک یہ درست ہے کہ عشق مجازی کے بغیر عشق حقیقی پیدا نہیں ہو سکتا لیکن عشق مجازی کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ جب تک انسان بنی نوع انسان کی محبت اور اُن کے لئے قربانی اور ایثار کا مادہ اپنے اندر پیدا نہیں کرتا اُس وقت تک خدا تعالیٰ اُس سے محبت نہیں کر سکتا۔اس لئے صوفیاء نے کہا ہے کہ بنی نوع انسان خدا کے عیال ہیں جس طرح تمہیں اپنے بچوں سے محبت ہے اسی طرح خدا کو بھی اپنی مخلوق سے محبت ہے۔پس مخلوق سے محبت کر کے خدا کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی محبت سے مخلوق کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب بارش نازل ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحن میں تشریف لاتے اور اپنی زبان نکال کر اُس پر بارش کا قطرہ لیتے اور فرماتے یہ میرے رب کی طرف سے تازہ نعمت آئی ہے 26 ( اس موقع پر حضور نے اپنی زبان باہر نکالی اور فرمایا۔اس طرح۔پھر فرمایا) میرے زبان نکالنے پر ممکن ہے تم میں سے بعض