انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 174

انوار العلوم جلد 23 174 تعلق باللہ اور آپ لوگ سن رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے سکھایا تھا۔ولید وغیرہ تو سب مشرک تھے اُن سے آپ نے محبت الہی کا کیا سبق سیکھنا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ سیکھا براہ راست اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔کوئی دُنیوی اُستاد ایسا نہیں تھا جس نے آپ کو روحانیت کے ان رازوں سے آشنا کیا ہو۔پس یہ درست ہے کہ نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا مگر اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ اُن کو محبت الہی کے راز سکھانے والا کوئی نہیں ہو تا۔خدا خود اُن سے براہِ راست محبت کرتا اور براہ راست اپنے علوم سے سر فراز فرماتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور معصوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بلوغت سے پہلے ہی وہ معصوم ہوں کیونکہ عصمت کا ملہ جو نبی کو حاصل ہوتی ہے وہ اُس وقت تک اُسے حاصل ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ تقویٰ اور محبت الہی اُس کے بلوغ بلکہ ہوش سے پہلے ہی موجود نہ ہو۔جو اُسے بُرائیوں سے محفوظ رکھے اور یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَلصَّبِيُّ صَبِى وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا 71 تو اس کے معنی صرف بچپن کے کھیل کود کے ہیں نہ کہ بغاوت و شرارت کے۔اب میں قرآن کریم سے بتاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کن لوگوں سے محبت نہیں کرتا تا کہ انسان کوشش کرے کہ میں ویسا نہ بنوں۔جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں سے محبت نہیں کرتا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ایسے آدمی کے دل میں خدا تعالیٰ کی کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔پس جن لوگوں میں یہ باتیں پائی جائیں گی وہ ان امور کی موجودگی میں خدا تعالیٰ سے کبھی محبت نہیں کر سکتے اور نہ اُن کا یہ دعویٰ تسلیم کیا جاسکتا ہے (اگر وہ کہیں) کہ وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کی آیات سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلاں فلاں شخص سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا لیکن چونکہ یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ بندہ ایک قدم بڑھے تو خدا تعالیٰ دو قدم بڑھتا ہے اس لئے اگر یہ ممکن ہو تا کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ سے محبت کر سکتے تو یہ جواب غلط ہو جاتا کہ ایک قدم کے بدلہ میں خدا تعالیٰ دو قدم بڑھتا ہے۔پس نتیجہ یہی نکلا کہ ت ہو۔محبت