انوارالعلوم (جلد 23) — Page 169
انوار العلوم جلد 23 169 تعلق باللہ سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ بارہ بارہ برس کے لڑکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور کہتے کہ یا رسول اللہ ہمیں بھی جہاد میں شامل ہونے کی اجازت دیجئے۔مگر آپ فرماتے کہ جاؤا بھی تم پر جہاد فرض نہیں۔تو رغبت کے مقام پر اور انس کے مقام پر اور وڈ کے مقام پر گناہوں سے معافی زیادہ ملتی ہے۔مگر جب انسان حُبّ کے مقام پر پہنچ جائے تو گناہوں کی معافی کم ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہمیشہ کے لئے جاری ہے اور توبہ کے ساتھ خواہ کیسے ہی گناہ ہوں معاف ہو جاتے ہیں لیکن بہر حال پہلے مقام وہ تھے جن میں معافی کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔جیسے چھوٹا بچہ دودھ پیتے پیتے بعض دفعہ اپنی ماں کا پستان کاٹ لیتا ہے مگر ماں اُسے کبھی نہیں کہتی کہ مجھ سے معافی مانگو۔وہ سمجھتی ہے کہ یہ بچہ ہے اور اس سے نادانی میں یہ حرکت ہو گئی ہے۔اسی طرح رغبت اور اُنس اور وڈ کے مقام پر معافی کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔وہ چاہے مانگے یا نہ مانگے۔اللہ تعالیٰ اُسے بچے کی طرح سمجھتا ہے گویا نیکی تو اس میں موجود ہوتی ہے لیکن تو بہ کا مقام اُسے حاصل نہیں ہو تا۔اس کے بعد جب وہ حب کے مقام پر پہنچتا ہے اور پھر کوئی غلطی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے اب یہ معافی مانگے گا تو ہم معاف کریں گے یوں ہم اسے معاف نہیں کر سکتے۔جب یہ توازن قائم نہیں رہتا تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور وہ رغبت اور انس کے مقام پر بعض دفعہ محبت الہی کا دعویٰ کرنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم محبوب خدا ہو گئے ہیں حالا نکہ جب تک وہ ایک بچہ کی حیثیت رکھتا ہے اُس کا فرض ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں ان راہوں سے زیادہ واقف نہیں میری حیثیت ایک بچہ کی سی ہے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو پھر بالغ کی ذمہ داریاں سمجھے اور خدا تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ میں کسی چیز کو ترجیح نہ دے۔(2) دوسری شرط یہ ہے کہ جب انسان محبت کے مقام پر پہنچے تو پھر خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔جو شخص اس مقام سے گرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سخت سزا پاتا ہے۔رغبت کے مقام پر اگر اُس سے ذہول ہو جائے تو زیادہ حرج نہیں۔انس کے مقام پر اگر اُس سے ذہول ہو جائے تو زیادہ حرج نہیں۔وڈ کے