انوارالعلوم (جلد 23) — Page 170
انوار العلوم جلد 23 170 تعلق باللہ مقام پر اگر اس سے ذہول ہو جائے تو زیادہ حرج نہیں لیکن جب محبت کے مقام پر پہنچ جائے تو پھر اس مقام کو مضبوطی سے پکڑ لے اور اللہ تعالیٰ کو ایک آن کے لئے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس اُن کے دشمن آئے اور اُنہوں نے کہا کہ کیا ستاروں کی پرستش کرنا جائز ہے؟ آپ نے فرمایا ذرا ٹھہر و۔جب ستارے آنکھوں سے اوجھل ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ لا أُحِبُّ الْأَفِلِينَ 8 وہ چیز جو آنکھوں سے اوجھل ہو جائے میں اُس سے محبت نہیں کر سکتا۔اگر یہ خدا ہیں تو پھر او جھل کیوں ہو گئے۔محبت تو اس سے ہو سکتی ہے جو آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔پس کامل محبت تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنے محبوب کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔کیا تم نے کبھی کوئی ماں ایسی دیکھی ہے جسے یہ یاد کرانے کی ضرورت ہو کہ اپنے بچہ سے محبت کر۔بچہ کہیں بیٹھا ہو اس کے دل میں محبت کی چنگاری سُلگ رہی ہوتی ہے اور بعض دفعہ بیٹھے بیٹھے اُس کے منہ سے آہ نکل جاتی ہے۔بیوی خاوند آپس میں محبت کرتے ہیں تو خواہ خاوند کتنی دور چلا جائے جب بھی اُس کا ذہن خالی ہو گا وہ اپنی بیوی کو ضرور یاد کرے گا۔بعض دفعہ ایک سپاہی لڑائی میں شامل ہوتا ہے۔میدانِ جنگ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔بندوقیں چل رہی ہوتی ہیں اور موت کا بازار گرم ہوتا ہے لیکن اُس وقت بھی اگر اُسے اپنی بیوی یاد آ جائے تو اُس کی آہ نکل جاتی ہے۔بیوی بعض دفعہ پھلکے پکا رہی ہوتی ہے کہ اپنے میاں اُسے یاد آ جاتے ہیں اور پھلکے پکاتے پکاتے اُس کی آہ نکل جاتی ہے۔تو فرماتا ہے لا أحِبُّ الأفلِينَ اگر تمہارا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو اور کبھی اُس کی محبت تمہارے دل میں آجاتی ہو اور کبھی نہ آتی ہو تو تم مت کہو کہ ہمیں خدا تعالیٰ سے محبت ہے تم کہو کہ ہمیں اُس سے رغبت ہے، تم کہو کہ ہمیں اُس سے انس ہے تم کہو کہ ہمیں اس سے ڈڈ ہے مگر یہ مت کہو کہ ہمیں اس سے محبت ہے کیونکہ محبت اُسی وقت ہو سکتی ہے جب محبوب کی یاد دل سے جدا نہ ہو۔خیال تو دوسری طرف جا سکتا ہے جیسے کھیل کے وقت کھیل کا ہی خیال رہے گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ محبت کا جذبہ بالکل جاتا رہے۔بلکہ جب بھی وہ اللہ تعالیٰ کا خیال کرے گا اُسی وقت اُس کی محبت بھی آجائے گی۔