انوارالعلوم (جلد 23) — Page 165
انوار العلوم جلد 23 165 تعلق باللہ تم نے جو اس عورت کی محبت کا نظارہ دیکھا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت رکھتا ہے۔ماں سے تو دس آدمی مل کر اُس کا بچہ چھین سکتے ہیں مگر وہ کون ماں کا بچہ ہے جو خدا کی گود سے کسی کو چھین سکے۔اس لئے خدا کی محبت زیادہ شاندار اور زیادہ پائیدار اور زیادہ اثر رکھنے والی ہے۔اس حدیث میں رحم کا لفظ محبت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے کیونکہ ماں بچہ پر رحم نہیں کرتی اُس سے محبت کرتی ہے۔پس مثال نے اس کے معنی متعین کر دیئے ہیں۔پھر اس سے اوپر ترقی کر کے بندہ خُلة کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور انسان دونوں خلیل کہلاتے ہیں۔لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ محبت میں زیادہ ہوتا ہے اسی طرح خُلہ میں بھی زیادہ ہوتا ہے۔لفظ ایک ہے مگر بندے کی خُلۃ اور خدا تعالیٰ کی خُلة میں بڑا بھاری فرق ہے کیونکہ گو جذبات محبت ہر وقت زندہ رہتے ہیں لیکن سونے اور جاگنے کی حالت میں اُن میں فرق ہو جاتا ہے۔سوتے وقت جذبات زندہ تو ہوتے ہیں مگر وہ دب جاتے ہیں اور اُن پر ایک طرح کا پردہ پڑ جاتا ہے پس چونکہ انسان پر سنة اور نوم آتے ہیں اور اُس وقت خُلة تو ہوتی ہے مگر اُونگھ اور نیند کی وجہ سے اُس طرح کی نہیں ہوتی جس طرح جاگتے وقت کی ہوتی ہے۔اس لئے خدا اور بندے کی خُلۃ میں بڑا بھاری فرق ہے۔خدا تعالیٰ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوم 65 کا مصداق ہے۔پس یہ جاگتا ہے تب بھی اللہ تعالیٰ اِس سے اُسی طرح محبت کرتا ہے اور یہ سوتا ہے تب بھی اُس کی خُلّة اُسی طرح جاری رہتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک تحریر میں بھی اشارہ کیا ہے جو میں تشخیز الاذہان اور بدر میں شائع کروا چکا ہوں۔اُس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ : "دنیا کہتی ہے تو کافر ہے مگر کیا تجھ سے پیارا مجھے کوئی اور مل سکتا ہے اگر ہو تو اُس کی خاطر تجھے چھوڑ دوں۔لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں، جب میرے دوستوں اور