انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 158

انوار العلوم جلد 23 158 تعلق باللہ حالانکہ مجنوں کون تھا؟ عرب کا ایک بدو تھا اور لیلی عرب کی ایک عورت تھی جو ممکن ہے ہماری نوکرانیوں سے بھی گھٹیا قسم کی ہو لیکن اس لئے کہ مجنوں کو اُس سے عشق ہو گیا ساری دنیا لیلی مجنوں کے قصوں کو بڑے شوق سے پڑھتی ہے حالانکہ فلسفیانہ طور پر اگر غور کیا جائے تو اس میں کوئی عجوبہ نہیں پایا جاتا۔چنانچہ ایک فلسفی نے عشق کی حقیقت اسی طرح ھیچی ہے کہ یوسف اور زلیخا کا قصہ کیا ہے بس یہی کہ ایک عورت مرد کے لئے لٹو ہو گئی لیکن واقعہ یہ ہے کہ خواہ فلسفیانہ رنگ میں کچھ کہا جائے عشقیہ کتابیں ہر جگہ پسند کی جاتی ہیں اور بڑے شوق کے ساتھ اُن کو خریدا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں ہی نہیں یورپ اور امریکہ میں بھی ان کتابوں کی بڑی قدر ہے۔اسی طرح بڑے بڑے بادشاہوں کے حالات زندگی دیکھے جائیں تو وہ بھی ان چیزوں کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔نپولین کے واقعات پڑھ کر دیکھ لو۔روس کے بادشاہ پیٹر کے واقعات پڑھ کر دیکھ لو۔اسی طرح بڑے بڑے جرنیلوں کے حالات پڑھ کر دیکھ لو تمہیں یہی معلوم ہو گا کہ وہ اسی قسم کی کتابوں کو بڑا پسند کرتے تھے بلکہ بعض جرنیل لڑائی کے لئے جاتے تو اپنے ساتھ ایسی کتابیں رکھ لیتے جو عشق و محبت کے افسانوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔تو عشق ایسی حسین چیز ہے کہ خواہ ادنی مخلوق سے ہو تب بھی وہ پیارا لگتا ہے۔پھر اگر خدا سے عشق ہو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ کتنا پیارا لگے گا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کماذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَنْب 56 کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرے (اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ نہ صرف بندہ خدا سے محبت کرتا ہے بلکہ خدا بھی بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے) تو کوئی گناہ اُسے ضرر نہیں پہنچاتا۔اب اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے تھے کہ کوئی گناہ اُس سے سرزد نہیں ہو سکتا اور یہ معنی بھی ہو سکتے تھے کہ گناہ تو اُس سے سرزد ہوتا ہے لیکن وہ اُسے نقصان نہیں پہنچاتا۔پہلے معنی اِس حدیث کے اس لئے نہیں ہو سکتے کہ یہاں ذنب کا لفظ ہے جس کا صدور ہر انسان کے لئے ممکن ہے۔پس ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی سے محبت کرنے لگ جائے تو اُس سے ذنب سر زد ہی نہیں ہو سکتے۔