انوارالعلوم (جلد 23) — Page 157
انوار العلوم جلد 23 157 تعلق باللہ تباہ ہو جاتی ہے) اور وہ مکان جو تم کو بہت بھاتے ہیں تم کو خدا اور اُس کے رسول سے زیادہ پسند ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صحابہ کی جماعت عملاً خد اتعالیٰ سے محبت کرنے والی تھی اور محبت بھی ایسی کامل رکھتی تھی کہ اُس کے مقابلہ میں نہ ماں باپ کی محبت ٹھہرتی تھی اور نہ بیٹوں کی محبت ٹھہرتی تھی، نہ بھائیوں کی محبت ٹھہرتی تھی، نہ بیویوں کی محبت ٹھہر تی تھی، نہ قبیلہ اور قوم کی محبت ٹھہرتی تھی ، نہ مال اور تجارت کی محبت ٹھہر تی تھی اور نہ جائدادوں اور مکانوں کی محبت ٹھہرتی تھی۔حدیثوں میں آتا ہے لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا کوئی تم میں سے ایمان والا نہیں کہلا سکتا جب تک کہ اللہ اور اُس کار سول اُس کو باقی سب چیزوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے۔اسی طرح بعض اور حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں آپ سے بڑی محبت کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کتنی؟ اس نے کہا جتنی مجھے اپنے بچوں سے محبت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم مومن نہیں ہو سکتے۔ایمان کے لئے اس سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے۔اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آپ سے اپنی جان جتنی محبت رکھتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب بھی تم مومن نہیں ہو سکتے کیونکہ ایمان کے لئے اس سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے۔اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آپ سے اپنی جان اور اپنے مال اور اپنے بیوی بچوں سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم مومن ہو۔حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ایمان اور کفر کو جانے دو تو محبت خالص خود بھی اپنی ذات میں ایک مذہب ہے قطع نظر اس سے کہ وہ کس کی طرف منسوب ہو تا ہے اور کسے پسند کرتا ہے۔اس وقت ساری دنیا میں ناول پڑھے جاتے ہیں اور ناولوں میں بالعموم یہی عشق و محبت کے ہی قصے ہوتے ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں یوسف زلیخا کا قصہ مشہور ہے اور بڑے مزے سے پڑھا جاتا ہے۔لیلیٰ مجنوں کے قصے بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں