انوارالعلوم (جلد 23) — Page 155
انوار العلوم جلد 23 155 تعلق باللہ ایک واسطہ ہو گیا جیسے کیلا زمین میں گاڑ کر گھوڑے کو اُس کے ساتھ باندھ دیا جائے تو گھوڑا زمین میں نہیں گھستانہ زمین گھوڑے میں گھستی ہے لیکن کیلے کے واسطہ سے اُس کا زمین کے ساتھ تعلق ہو جاتا ہے۔اِس کے بعد حُبّ کا مقام آتا ہے۔وڈ میں ایک واسطہ ور تعلق تو ہو چکا تھا لیکن ابھی وہ دُور دُور تھے جب کے مقام پر پہنچ کر یہ اُس وجود میں گھس گیا اور وہ وجود اِس میں گھس گیا۔دوسرے محبت اُس تعلق کو کہتے ہیں جو نتیجہ خیز ہو اور ایک کھیتی پیدا کر دے کیونکہ حب کے معنی اُس پیج کے ہوتے ہیں جس سے بڑے بڑے درخت اور کھیتیاں پیدا ہو جائیں گویا محبت حقیقی بھی وہی ہے جو دانے کی طرح ہو۔جس طرح دانے سے درخت پید اہو جاتے ہیں اسی طرح محبت بھی اپنے پھل پیدا کئے بغیر نہیں رہتی۔گویا یوں کہو کہ بندے اور خدا کا تعلق ایسا ہوتا ہے جیسے مرد اور عورت کا ہوتا ہے۔جب انسان محبت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اُس کی روحانی نسل دنیا میں پھیلنی شروع ہو جاتی ہے اور لوگ اُس پر ایمان لانا شروع کر دیتے ہیں۔یہ لفظ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی آتا ہے اور مومنوں کی نسبت بھی آتا ہے جس طرح وڈ کا لفظ بھی دونوں کے متعلق استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَ 52 اے مومنو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا۔فَسَوْفَ يَأْتِيَ اللهُ بِقَوْمٍ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ضرور کسی دوسری قوم کے افراد کو آگے لے آئے گا۔تُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةَ الله تعالیٰ اُن سے محبت کرے گا اور وہ خدا سے محبت کریں گے۔پس یہ کہنا بھی درست ہے کہ فلاں شخص خدا سے محبت کرتا ہے اور یہ کہنا بھی جائز ہے کہ فلاں سے خدا محبت کرتا ہے کیونکہ مذکورہ بالا مومنوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خدا سے محبت کریں گے اور خدا اُن سے محبت کرے گا۔اسی طرح فرماتا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُم كَحُتِ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ - 53 یعنی دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بعض