انوارالعلوم (جلد 23) — Page 150
انوار العلوم جلد 23 150 تعلق باللہ محبت ہو۔اس لحاظ سے سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کر دے گا۔پھر انسان یہ چاہتا ہے کہ نہ صرف اُس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو بلکہ خدا بھی اپنی محبت کا اُسے مورد بنالے اور اُسے اپنے خاص فضلوں میں سے حصہ دے۔اس لحاظ سے سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نفس میں اُن کی محبت پیدا کر دے گا اور اُن کو اپنی محبت کا مورد بنالے گا۔پھر انسان کو اس امر کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اُس کے رشتہ داروں اور عزیزوں اور دوستوں میں اُس کی عزت ہو۔اسی طرح وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اپنے شہر اور ملک والوں میں اُسے نیک نامی حاصل ہو۔انسان کی اس خواہش کو بھی سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمنُ وُڈا میں پورا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں بھی اُن کی محبت ڈالے گا۔گویا ہر پہلو کے لحاظ سے اس محبت کو کامل کیا گیا ہے۔انسان چاہتا ہے کہ خدا سے مجھ کو محبت ہو جائے۔انسان چاہتا ہے کہ خدا کو اُس سے محبت ہو جائے۔انسان چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان اُس سے محبت کرنے لگیں اور انسان چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان کی محبت اُس کے دل میں پیدا ہو جائے اور یہ چاروں محبتیں سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا کی آیت کی رُو سے مومنوں کو حاصل ہوتی ہیں۔اگر خدا تعالیٰ ان الفاظ کی بجائے صرف اتنا فرما تا کہ میں اُن سے محبت کروں گا تو ایک معنی تو آ جاتے مگر تین معنی رہ جاتے۔اگر یہ فرماتا کہ وہ بھی مجھ سے محبت کریں گے اور میں بھی اُن سے محبت کروں گا تو دو معنی آجاتے اور دورہ جاتے۔اگر فرماتا کہ میں اُنہیں نیک شہرت دوں گا تو ایک معنی آ جاتے اور تین رہ جاتے۔اگر فرماتا کہ میں اُنہیں نیک شہرت بھی دوں گا، اُن کے دلوں میں اپنی محبت بھی پیدا کروں گا اور اپنی محبت کا بھی انہیں مور د بناؤں گا تب بھی تین معنی آجاتے اور چوتھے معنی جو شفقت علی الناس سے تعلق رکھتے ہیں وہ رہ جاتے۔اب اللہ تعالیٰ نے آیت ایک رکھی ہے مگر معنی چاروں کے چاروں اس میں آگئے ہیں۔یہ معنی بھی اس میں آگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرے گا۔یہ معنی بھی اس میں