انوارالعلوم (جلد 23) — Page 149
انوار العلوم جلد 23 149 تعلق باللہ کر دے اور ایک کو دوسرے سے وابستہ کر دے۔رغبت اور اُنس کے الفاظ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی نسبت نہیں آتے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب ملنے کی خواہش کرے گا تو وہ پوری بھی ہو جائے گی اور رغبت کا لفظ خواہش کے پورا ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔اسی طرح انس کا لفظ بھی اللہ تعالیٰ کی نسبت استعمال نہیں ہوتا کیونکہ انس کے یہ معنی ہیں کہ محبت ہے اور دیدار بھی ہو گیا لیکن اُسے قریب نہیں لا سکا اور اللہ تعالیٰ کی محبت ایسی ہوتی ہے کہ اس میں بندے کے الگ رہنے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔جب وہ کسی سے محبت کرتا ہے تو اُسے خود اپنے قرب میں کھینچ لیتا ہے جیسے مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔پس چونکہ خدا اپنے مقربین کو خود اپنی طرف کھینچتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے متعلق انس کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔انس صرف بندے کے اندر ہوتا ہے۔قرآن کریم میں جو کفار کے بتوں کے نام آئے ہیں اُن میں سے ایک بت کا نام و ذ 46 بھی آیا ہے۔کیونکہ مشرکین کا خیال تھا کہ اس بُت کا خدا تعالیٰ سے ایسا ہی تعلق ہے جیسے کیلے کا زمین سے ہوتا ہے۔اسی طرح مؤمنوں کے متعلق فرماتا ہے سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ ودَّا 47 خدا اُن کے لئے و ڈ پیدا کر دے گا قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ بعض جگہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جن کو چکر دے کر کئی کئی مضامین آتے ہیں۔یہاں بھی اسی قسم کا طریق اختیار کیا گیا ہے۔اس جگہ لھم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں اُن کے فائدہ کے لئے کیونکہ لام فائدہ کے لئے آتا ہے مگر یہ کہ کس کس امر کے متعلق ڈڈ پیدا کرے گا اسے اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے تا کہ جتنے معانی پیدا ہو سکتے ہوں وہ اس ایک لفظ سے ہی پیدا ہو جائیں۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا کے ایک تو یہ معنی بنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے اُن کے دلوں میں وڈ پیدا کرے گا یعنی بنی نوع انسان کی خیر خواہی کا جذبہ اُن کے دلوں میں پیداہو گا اور وہ مخلوق کی ہمدردی اور اُن کی بہتری اور ترقی کے جذبہ سے سرشار ہو کر اُن کی خدمت میں مشغول ہو جائیں گے۔پھر انسان کو اس امر کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کی