انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 134

انوار العلوم جلد 23 134 تعلق باللہ کے یہ معنی نہیں کہ جلدی کوئی مادہ ہے جس سے انسان کی پیدائش ہوئی ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اُس کی طبیعت میں جلدی کا مادہ رکھا گیا ہے۔اسی طرح خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ علق کے یہ معنی بھی ہیں کہ اُس نے انسان کی فطرت میں علق کا مادہ رکھا ہے اور یہ معنی بھی ہیں کہ عَلَق کی حالت سے ترقی دے کر اُسے پیدا کیا ہے کیونکہ علق کے معنی اُس خون کے بھی ہوتے ہیں جو ماں کے رحم میں نطفہ سے ترقی کر کے پیدا ہوتا ہے اور رحم سے چمٹا ہوا ہوتا ہے اور پھر بچہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔پس ظاہری معنی اس کے ایک یہ بھی ہیں کہ اُس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔یہاں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے خَلَقَ الْإِنْسَان فرمایا ہے انسان کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں عربی زبان کے لحاظ سے مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں۔ہمارے ملک کی زبان میں انسان کا ترجمہ آدمی کیا جاتا ہے اور جب آدمی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اُس سے مراد صرف مرد لئے جاتے ہیں عورتیں مراد نہیں لی جاتیں۔عورتوں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ جب آدمی کا لفظ استعمال کریں گی تو اپنے آپ کو نکال لیں گی اور صرف مردوں کو آدمی قرار دیں گی۔بعض عورتیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں خواہ کتنا بھی سمجھاؤ آخر وہ یہی کہتی ہیں کہ " آخر مرد آدمی ہیں تو انہیں ہم آدمی ہی کہیں گی"۔پس یاد رکھو کہ یہاں پنجابی زبان کے لحاظ سے انسان یا آدمی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ یہ عربی انسان ہے اور اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔بہر حال جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ہم نے مرد اور عورت دونوں کو علق سے پیدا کیا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر انسان علق سے پیدا ہوا ہے ؟ ظاہر میں تو یہی نظر آتا ہے کہ مرد عورت ماں باپ سے پیدا ہوتے ہیں۔وہ اپنے ماں باپ سے پیدا ہوئے اور اُن کے ماں باپ اپنے ماں باپ سے پیدا ہوئے اور آخر یہ سلسلہ آدم پر جا کر ختم ہو گیا جس کے ماں باپ کوئی نہ تھے مگر خدا تعالیٰ نے تو خَلَقَ الْإِنْسَانَ میں الإِنسَانَ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سارے انسان۔اب جبکہ سارے انسان عَلَق سے پیدا ہوئے ہیں تو اگر ہم یہ سلسلہ آدم پر ختم کر دیتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم انسان تھے یا نہیں ؟ حوا انسان تھیں یا