انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 133

انوار العلوم جلد 23 133 تعلق باللہ ہوں اور تمہارا کپڑا لمبا ہو تو کانٹے تمہارے کپڑوں کے ساتھ چمٹ جائیں گے اور وہ تمہارے ساتھ ساتھ گھسٹتے جائیں گے اس کو بھی عربی زبان میں تعلق کہتے ہیں۔گویا جب کوئی چیز اس طرح لٹک جائے کہ کوشش کے ساتھ اُسے ہٹانا پڑے وہ آپ نہ ہٹے تو اُسے تعلق کہتے ہیں۔اسی وجہ سے علق کے معنی محبت کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں عَلِقَهُ وَ بِهِ عُلُوْقًا هَوَاهُ وَ أَحَبَهُ يَعْنِي عَلِقَهُ 11 جس کے لفظی معنی یہ ہوتے ہیں کہ اُس کے ساتھ لٹک گیا۔اس کا مفہوم یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ محبت کی۔ہمارے ہاں بھی ایک اسی قسم کا محاورہ ہے۔کہتے ہیں فلاں کے ساتھ دل اٹکا ہوا ہے۔پس تعلق باللہ کے معنی ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ لٹک جانا اور ایسا تعلق قائم کر لینا کہ کوئی دوسرا پرے کرے تو کرے آپ نہ ہے۔مثلاً اس وقت میری سوئی میرے ساتھ پڑی ہے اگر میں علیحدہ ہوں گا تو یہ گر جائے گی لیکن اگر کانٹے لگ جائیں تو میں اُنہیں اُتاروں گا تو وہ اتریں گے یا کوئی اور شخص انہیں ہٹائے گا تو وہ ہٹیں گے خود بخود علیحدہ نہیں ہوں گے۔پس تعلق ایسے گہرے ربط کو کہتے ہیں جو آپ ہی آپ نہیں ٹوٹ سکتا اور اسی کو محبت بھی کہتے ہیں۔پس تعلق باللہ کے معنی ہوئے اللہ تعالیٰ سے لٹک جانا اور اُس سے نہ ٹوٹنے والا تعلق پیدا کر لینا۔ا قرآن کریم میں بھی اس تعلق کا ذکر آتا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے اور اس تعلق کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں اور بہت بڑی نعمتوں میں سے قرار دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 12 خدا تعالیٰ نے انسان کو علق سے پیدا کیا ہے یا یہ کہ اُس نے انسان میں علق کا مادہ پیدا کیا ہے۔خُلِقَ مِنْ فَلَانٍ 13 کے معنی عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ اُس کو اُس چیز سے پیدا کیا گیا ہے لیکن کبھی اس کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ وہ چیز اُس کی فطرت میں ہی داخل ہے۔مثلاً قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتا ہے کہ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابِ 4 اُس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے یعنی مٹی منبع تھی انسان کی پیدائش کا۔لیکن دوسری جگہ آتا ہے کہ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ 15 اُس نے انسان کو جلدی سے پیدا کیا ہے۔اس