انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 132

انوار العلوم جلد 23 132 تعلق باللہ عورت نے دو دے دیں۔اُس نے خالی روٹی مانگی مگر عورت نے روٹی کے ساتھ سالن بھی دے دیا۔مگر فقیر کو وہ مزا کہاں حاصل ہو سکتا ہے جو ایک بچہ کو اپنی ماں کا دودھ پیتے وقت حاصل ہوتا ہے کیونکہ ماں کا اپنے بچہ کو دودھ پلانا محبت کے جذبات سے تعلق رکھتا ہے اور فقیر کے مانگنے پر عورت کا اُسے روٹی یا سالن دے دینا محبت اور پیار کے جذبات کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پس وہاں اور جذبہ کام کر رہا ہوتا ہے اور یہاں اور جذبہ کام کر رہا ہوتا ہے۔اسی طرح بے شک فلسفی طبقہ کہتا ہے کہ عبادت و امتثال امر میں خدا تعالیٰ سے تعلق کا پید اہونا ہے اور اُس کا احسان اور انعام ہی اس کے تعلق کا اظہار ہے اور ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی توفیق ملنا بھی اس کے فضل پر منحصر ہے اور اس کے احکام کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کے احسان سے ہی تعلق رکھتی ہے۔لیکن جو مز ا اُس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جسے پتہ ہو کہ میر اخدا مجھے ملا ہے۔میرا اُس کے ساتھ تعلق ہے اور اُس نے اپنی محبت اور پیار کا اظہار فلاں فلاں نعمتوں کے علاوہ براہِ راست بھی کیا ہے تو وہ مزا اُس شخص کو کہاں حاصل ہو سکتا ہے جو ان نشانوں سے محروم ہو۔ان دونوں کی تو آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی۔تعلق باللہ کا مفہوم اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ جب سارے انبیاء و صلحاء یہ مانتے چلے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہو سکتا ہے تو تعلق کے معنی کیا ہیں؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ تعلق کے معنی عربی زبان میں لٹکنے کے ہوتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں تَعَلَّقَ الْمَرْأَةَ 7 فلاں شخص فلاں عورت کے ساتھ معلق ہو گیا۔یا کبھی ب کے ساتھ بھی اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے یعنی کہتے ہیں تَعَلَّقَ بِالْاِمْرَأَةِ ؟ فلاں عورت کے ساتھ فلاں شخص کا تعلق قائم ہو گیا اور اس کے معنی عربی زبان کے لحاظ سے یہ ہوتے ہیں کہ مَالَ قَلْبَهُ إِلَيْهَا اُس شخص کا دل شوق اور محبت کے ساتھ اُس عورت کی طرف جھکا۔اِسی طرح کہتے ہیں تَعَلَّقَ الشَّوْكَ بِالثَّوْبِ۔اور اس کے معنی ہوتے ہیں نَشَبَ فِيهِ وَ اسْتَمْسَکَ۔10 کہیں راستہ میں سے گزرتے ہوئے اگر کانٹے پڑے ہوئے