انوارالعلوم (جلد 23) — Page 123
انوار العلوم جلد 23 123 تعلق باللہ کہ کر لو جو کچھ کرنا ہے میں اپنے مذہب اور عقیدہ کو نہیں چھوڑ سکتا یہی تو غیرت دکھانے کا وقت ہوتا ہے۔اور کونسا وقت ہے جس میں انسان اس قسم کی غیرت دکھا سکے۔امور عامہ کی رپورٹ یہ ہے کہ جیسے مردوں کی بیرکوں میں اتفاقی طور پر آگ لگ گئی تھی اسی طرح عورتوں کی بیرکوں میں بھی اتفاقی طور پر آگ لگ گئی ہے لیکن میں ان کی اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتا۔مردوں کی بیرکوں کے متعلق ان کی رپورٹ میں نے تسلیم کرلی تھی مگر اس رپورٹ کو میں غلط سمجھتا ہوں اور اس کی میرے پاس وجوہ موجود ہیں۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے مگر انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ مجھ پر یا میرے محکمہ پر الزام نہ آئے۔میرے نزدیک اسی اثر کے ماتحت ان کی یہ رپورٹ ہے مگر ہمارے پاس اس رپورٹ کے غلط ہونے کی وجہ موجود ہے۔ہم نے دو ذرائع سے اس حادثہ کی تحقیقات کرائی ہے۔ایک تحقیق تو ناظم جلسہ نے اسی وقت کی۔میں نے انہیں حکم دیا کہ فوراً تحقیقات کرو اور مجھے اپنی تحقیق کے نتائج سے اطلاع دو۔دراصل جلسہ سے جانے کے بعد مجھے کافی عرصہ تک نیند نہیں آئی۔نمازوں اور ملاقاتوں کے بعد بھی میں دیر تک جاگتا رہا۔اس کے بعد میں لیٹا ہی تھا کہ یکدم شور کی آواز آئی اور معلوم ہوا کہ عورتوں کی بیرکوں میں آگ لگ گئی ہے۔میں نے فوراً آدمی دوڑائے اور کہا کہ مجھے اطلاع دو کہ کیسے آگ لگی ہے۔چنانچہ ڈیڑھ بجے رات انہوں نے مجھے اطلاع دی جس میں انہوں نے نقشہ بھی دیا ہوا تھا۔میں نے جو پہرے دار بھجوائے تھے اُنہوں نے بتایا کہ ایک عورت نے یہ کہا ہے کہ میں نے خود بعض آدمی جاتے ہوئے دیکھے ہیں جو کہتے تھے کہ رستہ نہیں ملتا، رستہ نہیں ملتا۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ ایک عورت کہتی ہے کہ یہ آگ باہر سے آتے ہوئے میں نے دیکھی ہے۔اس کے بعد ناظم جلسہ کی رپورٹ بھی پہنچ گئی۔اس میں وضاحت سے ذکر تھا کہ فلاں عورت سے میں نے بیان لئے ہیں وہ کہتی ہے کہ میں اپنی بیرک میں بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھے چھت کے اوپر سے گرمی لگی اور پھر میں نے اوپر سے نیچے آگ آتی ہوئی دیکھی جو پھیل گئی اور پھر میں نے شور مچادیا کہ آگ لگ گئی ہے۔اسی طرح ان کا بیان ہے کہ