انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 113

انوار العلوم جلد 23 113 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔ہوتی ہے جو کفر و ظلمت کی خندقوں کو پاٹ کر دلوں کو دلوں سے ملا دیتی ہے۔دنیوی قلعوں سے لوگ خوف کھاتے ہیں۔دُنیا کی بڑی سے بڑی حکومت بھی دوسری حکومت کو اپنے ملک میں قلعہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دیتی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قلعہ ایسا ہے جو ہم ہر ملک اور ہر علاقہ میں آسانی سے تعمیر کر سکتے ہیں اور اس طرح اسلام کی اشاعت کا سامان پیدا کر سکتے ہیں۔اگر ہم ایسانہ کریں تو یہ ہماری کو تاہی ہو گی۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ بیرونی ممالک میں تعمیر مساجد کی اہمیت کو سمجھے اور اس فنڈ میں مقررہ طریق کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لے تا کہ ہم جلد سے جلد دُنیا کے ہر ملک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلعے تعمیر کر سکیں۔چندہ تحریک جدید یہ ایک جہاد ہے اس لئے ہر احمدی کو اس میں حصہ لینا چاہئے تم کو شش کرو کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جو اس میں حصہ نہ لے رہا ہو۔اب یہ ضروری نہیں رہا کہ ہر سال اپنے چندہ میں اضافہ ہی کیا جائے اگر تمہاری آمدنی میں کمی واقع ہو گئی ہے تو بے شک چندے میں کمی کر دو لیکن حصہ لینے سے محروم نہ رہو۔صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت آجکل اس حد تک کمزور ہے کہ ماہوار تنخواہیں کارکنوں کو قرض لے کر دی جارہی ہیں۔گو اس میں انجمن کا اپنا بھی قصور ہے مگر بہر حال دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی مالی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں اور اس کا طریق یہ ہے کہ تمام دوست اپنا چندہ پوری با قاعدگی کے ساتھ ادا کریں اور جو لوگ چندہ نہیں دیتے ان سے وصول کریں۔ابھی جماعتوں میں ایک خاصی تعداد ایسے افراد کی موجود ہے جو نادہند ہے۔اگر ان کو توجہ دلائی جائے اور ان سے چندہ وصول کیا جائے تو یقیناً ہمارے چندے میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے اور انجمن کی مالی حالت مضبوط ہو سکتی ہے۔اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت ملک کی اقتصادی حالیت کا بھی چندے سے گہرا تعلق ہے۔اگر اقتصادی حالات بہتر ہوں تو یقیناً چندوں میں زیادتی ہو جاتی ہے۔میں نے اس دفعہ