انوارالعلوم (جلد 23) — Page 112
انوار العلوم جلد 23 112 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔میں سمجھتا ہوں اگر تمام اسلامی ملک اس خطرے کے ازالہ کے لئے اپنے اپنے بجٹ کا پانچ فیصدی بھی مخصوص کر دیں تو ایک اتنی بڑی رقم جمع ہو سکتی ہے جس سے ہم یہودیوں کی بڑھتی ہوئی شرارتوں کا عملاً سد باب کر سکتے ہیں۔اس مسئلہ کی اہمیت کے متعلق میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی اور اب پھر دلاتا ہوں۔مگر افسوس کہ اب تک مسلمانوں نے اس خطرے کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔اسی طرح کشمیر کے علاقہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ موجودہ طریق سے یہ مسئلہ کس طرح حل ہو گا؟ کشمیر کے متعلق پاکستان اور ہندوستان کی پوزیشن بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص کا روپیہ گر جائے اور دوسرا اُسے اُٹھا کر اپنے قبضہ میں کر لے۔جس کا روپیہ گرا ہے اگر وہ محض صبر سے کام لیتا چلا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے کبھی بھی روپیہ ملنے کی امید نہ کرنی چاہئے۔بہر حال دُعا کرو کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کا بھی کوئی صحیح راستہ حکومت کو نظر آئے اور پھر اس راستے پر اسے عمل کرنے کی بھی توفیق ملے۔کیونکہ کشمیر کے بغیر پاکستان ہر گز محفوظ نہیں ہے۔یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کوئی صحیح طریق اختیار کرے مگر وہ جو بھی راستہ تجویز کرے تمہیں اس پر عمل کرنے کے لئے ابھی سے تیار رہنا چاہئے۔بیرونی ممالک میں تعمیر مساجد کی اہمیت میں نے اس سال شوری کے : موقع پر بیرونی ممالک میں مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی اور اس کے لئے ایسے طریق تجویز کئے تھے جن پر عمل کر کے ہر شخص بغیر کسی خاص بوجھ کے بڑی آسانی سے اس میں حصہ لے سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس تحریک پر پوری طرح عمل کیا جائے تو دولاکھ روپیہ سالانہ بڑی آسانی سے ہم جمع کر سکتے ہیں۔یاد رکھو کہ بیرونی ممالک میں جب تک ہم مساجد تعمیر نہ کریں گے وہاں پر تبلیغ اسلام کرنے میں ہمیں کامیابی نہیں ہو گی کیونکہ مسجد ایک بہترین مبلغ کا کام دیتی ہے۔لوگوں کے قلعے توپوں اور بندوقوں سے آراستہ ہوتے ہیں اور انہی سے وہ ملک فتح کرتے ہیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلعے مساجد ہوتے ہیں۔جہاں سے اللہ اکبر کی آواز سے دلوں کو فتح کیا جاتا ہے وہاں سے رات دن اذان کی گولہ باری