انوارالعلوم (جلد 23) — Page 104
انوار العلوم جلد 23 104 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔۔اسے صرف تفسیر اور تاویل کا اختلاف کہا جا سکتا ہے۔بیرونی ممالک کے نمائندوں پر اس کا اثر دوسرا اثر اس فتنے کا یہ ہوگا کہ کراچی میں جماعت احمدیہ کے جلسہ میں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے "اسلام زندہ مذہب ہے" پر تقریر کی۔یہ مولوی بھلا یہ کب برداشت کر سکتے تھے کہ اسلام کو زندہ مذہب ثابت کیا جائے۔انہوں نے اسلام کو زندہ مذہب ثابت کرنے کو اپنے لئے ایک بہت بڑی اشتعال انگیزی قرار دیا اور ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی۔کراچی میں چونکہ بیرونی ممالک کے سفیر بھی موجو د ہوتے ہیں اس لئے جب انہوں نے یہ حالات دیکھے تو ان پر یہ اثر ہوا اور اسی اثر کے ماتحت انہوں نے اپنے اپنے ملک میں رپورٹیں بھیجیں کہ احمدی جماعت ایک فعال جماعت ہے اور مولویوں کا طبقہ محض اعتقادی اختلاف پر عوام کو مشتعل کر رہا ہے۔وہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہو رہا ہے اور مذہبی تعصب کو ہوا دے کر اسے ایک تنگ نظر ملک بنانا چاہتا ہے۔ان میں سے بعض نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان ایک ترقی کرنے والا ملک ہے مگر اس ہنگامے کو دیکھ کر پاکستان کی ترقی کے متعلق ہمارے دل میں شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔گویا انہوں نے سمجھا کہ شاید یہی مولوی ملک کی آواز ہیں حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔یہ لوگ پاکستان کا ایک چھوٹا سا جز و تو سمجھے جاسکتے ہیں مگر انہیں پاکستان کا دل قرار نہیں دیا جاسکتا۔پاکستان کا دل اور ہے۔بے شک لوگ وقتی اشتعال کے ماتحت ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں مگر ملک کی حقیقی آواز ہر گز وہ نہیں ہے جو یہ لوگ بلند کرتے ہیں۔پس اس فتنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ غیر ممالک میں ہمیں متعارف ہونے اور انہیں اسلام کی تبلیغ کرنے کا موقع مل گیا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ بنگالی نمائندوں کی رائے ایک اثر اس فتنے کا یہ ہوا کہ بنگالی نمائندوں نے اصل حقیقت کو بھانپ لیا اور انہیں علم ہو گیا کہ اہل غرض افراد مذہب کی آڑ میں سیاسی چالیں چل رہے ہیں۔چنانچہ بنگال کے اخبارات میں سے سوائے ایک دو کے باقی سب نے یہی لکھا کہ ہم اس گند کو جو مغربی پاکستان میں