انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 5

انوار العلوم جلد 23 5 خدام کو نصائح تو وہ تنظیم سے متعلقہ اخراجات پر ہی ہوتا ہے اور کسی چیز پر نہیں۔مثلاً وہ کہیں گے تعلیم پر کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے۔ہسپتالوں پر کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے۔غریبوں کی امداد کے لئے کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے، غرباء کے وظائف پر کس قدر رقم خرچ ہوئی ہے اور اگر انہیں یہ بتایا جائے کہ کام کو چلانے کے لئے اتنے سیکر ٹریوں کی ضرورت ہے، پھر دفتری اخراجات کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے، سفر خرچ کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے تو وہ کہیں گے ہمارا روپیہ ضائع ہو گیا۔اگر چہ ایسا اعتراض کرنا حماقت ہوتا ہے کیونکہ سب سے اہم چیز مرکزیت ہوتی ہے لیکن واقعہ یہی ہے کہ ہمیشہ ان اخراجات پر اعتراض کیا جاتا ہے۔تم انگلستان کی تاریخ کو لے لو، امریکہ کی تاریخ کو لے لو، فرانس کی تاریخ کو لے لو، جرمنی کی تاریخ کو لے لو، جاپان کی تاریخ کو لے لو، روس کی تاریخ کو لے لو جب کبھی بھی میزانیہ پر اعتراض ہوا ہے تو اس کے اسی حصہ پر ہوا ہے جو تنظیم کے لئے خرچ ہوا ہے کیونکہ یہ اخراجات نظر نہیں آتے۔پس نظر آنے والا خرچ لوگوں میں مزید چندہ دینے کی تحریک پیدا کرتا ہے۔اگر تم اس جگہ کو زیادہ سے زیادہ اعلیٰ بناتے جاؤ گے تو خدام میں چندہ کی تحریک ہوتی رہے گی مثلاً میدان کو چھوڑ کر دیواروں کے ساتھ ساتھ بھول لگائے جائیں۔چونکہ اس جگہ پر تمہیں سالانہ اجتماع بھی کرنا ہو گا اس لئے تم چمن تو بنا نہیں سکتے لیکن دیواروں کے ساتھ ساتھ پھول لگائے جاسکتے ہیں۔اس طرح نظارہ اور زیادہ خوبصورت بن جائے گا۔پھر بیچ میں چند فٹ کی سڑک رکھ کر اس کے ارد گرد بھی پھول لگائے جاسکتے ہیں۔جب خدام آئیں گے اور اس جگہ کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے ہمارا روپیہ صحیح طور پر استعمال ہوا ہے۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کے لئے دُعا کروں گا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہیں جلد مرکز بنانے کی توفیق دے دی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے ابھی مرکز بنانے کی کوشش نہیں کی۔دُنیا میں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بوڑھے تجربہ کار ہوتے ہیں لیکن ہماری جماعت یہ سمجھتی ہے کہ بڑھے بیکار ہوتے ہیں اور بیکار کا کوئی کام نہیں اس لئے انصار اللہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کوئی کام نہیں کرتے تو وہ اپنے عہدے کے