انوارالعلوم (جلد 23) — Page 4
انوار العلوم جلد 23 4 خدام کو نصائح دے دیں اس طرح مقامی جگہ کی عظمت قائم ہو سکتی ہے۔پس میرے نزدیک آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ کسی نہ کسی قسم کی چار دیواری اس زمین کے ارد گرد ہو جائے۔خواہ وہ چار دیواری لکڑیوں کی ہی کیوں نہ ہو۔بارہ کنال کی چار دیواری پر اڑھائی تین ہزار روپیہ خرچ آئے گا بلکہ اس سے بھی کم اخراجات میں چار دیواری بن جائے گی۔اس موقع پر محترم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے عرض کیا کہ پتھروں کی چار دیواری بارہ سو روپیہ میں بن جاتی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا:- ”میرے مکان کی چار دیواری کو لیا جائے تو یہ اندازہ بہت کم ہے۔اتنی رقم میں چار دیواری نہیں بن سکتی“۔صاحبزادہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور اس رقم میں صرف چار فٹ اونچی چار دیواری بنے گی۔حضور نے فرمایا:- ”ہاں اگر چار فٹ اونچی چار دیواری بنائی جائے تو اتنی رقم میں کام ہو سکتا ہے لیکن چار فٹ اونچی چار دیواری سے پردہ نہیں ہوتا۔بہر حال اگر چار دیواری بن جائے تو مرکز کا اثر بیرونی مجالس پر بڑھ جائے گا۔عورتوں کے متعلق مجھے تجربہ ہے کہ جب وہ کوئی بنی ہوئی چیز دیکھتی ہیں تو پہلے سے بڑھ کر روپیہ خرچ کرتی ہیں اور نوجوانوں میں تو یہ سپرٹ (Spirit) زیادہ ہونی چاہئے۔جب سالانہ اجتماع ہو گا۔خدام باہر سے آئیں گے اور چار دیواری بنی ہوئی دیکھیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ ان کا روپیہ نظر آنے والی صورت میں لگ رہا ہے اور ان کا جوش بڑھ جائے گا۔دفاتر میں جو روپیہ لگتا ہے وہ انہیں نظر نہیں آتا۔اگر تم کہو کہ دفتر میں کاغذ ، سیاہی، قلم، پنسل اور کارکنوں کی تنخواہوں پر روپیہ صرف ہوتا ہے تو چونکہ یہ خرچ انہیں نظر نہیں آتا وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا روپیہ صحیح طور پر خرچ نہیں کیا جاتا۔تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو روپیہ تنظیم پر خرچ ہوتا ہے وہ نظروں سے پوشیدہ ہوتا ہے اس لئے قوم کی طرف سے جب بھی کوئی اعتراض ہوتا ہے