انوارالعلوم (جلد 23) — Page 87
انوار العلوم جلد 23 87 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔۔کیونکہ آپ خود تو قادیان میں دفن ہوئے اور حضرت اماں جان یہاں ربوہ میں دفن ہوئیں اور یا اس الہام نے یہ بتادیا ہے کہ یہ مقبرہ بھی بہشتی مقبرہ ہے اور قادیان کے بہشتی مقبرہ کا ہی ایک حصہ ہے۔گویا اس بہشتی مقبرہ کے بنانے میں جو مشکل میرے سامنے آئی تھی الہی فعل نے اسے حل کر دیا۔میں مامور نہیں تھا، میری زبان بند تھی، میں ایسے مقام پر نہیں تھا کہ اس اعتراض کا جواب دے سکوں۔سو خدا تعالیٰ نے حضرت اتاں جان کو یہاں دفن کر کے ان لوگوں کا منہ بند کر دیا۔اب انہیں یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام که يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ اور يَا احْمُدُ اسْكُنْ أنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ جھوٹا تھا کیونکہ آدم وہاں دفن ہیں اور حوا یہاں۔احمد وہاں دفن ہیں اور ان کی بیوی یہاں اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ یہ جگہ بھی بہشتی مقبرہ ہے۔غرض اس الہام نے یہ واضح کر دیا کہ میر ا قدم خدا تعالیٰ کی منشاء کے عین مطابق تھا۔اسی طرح وہ پہلی پیشگوئیوں کے بھی عین مطابق تھا۔اس مقبرہ کو پلا کم و کاست وہی پوزیشن حاصل ہے جو مقبرہ بہشتی قادیان کو حاصل ہے۔پورے سو فیصدی سو میں سے ایک حصہ بھی کم نہیں ورنہ یا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ والی بات نَعُوذُ بِاللہ جھوٹی تھی۔اُوپر کے الہامات کے علاوہ ایک اور الہام بھی تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا اور وہ یہ ہے إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ 10 یہ الہام 20 ستمبر 1907ء کو ہوا اور تذکرہ صفحہ 677 پر درج ہے یعنی میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں اور اہل میں سے سب سے مقدم بیوی ہوتی ہے۔پھر یہی الہام 21 ستمبر 1907ء کو بھی ہوا۔5 نومبر 1907ء کو بھی ہوا پھر 2 دسمبر 1907ء کو بھی یہ الہام ہوا۔گویا ایک سال کی آخری چہار ماہی میں یہ الہام چار دفعہ ہوا۔اب عجیب بات یہ ہے کہ ایک تو شادی سے پہلے یہ الہامات ہوئے جن میں حضرت اماں جان کا ذکر تھا، پھر شادی کے قریب الہام ہوا، پھر یہ سلسلہ ایک لمبے عرصہ تک بند رہا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہونے والی تھی تو بیوی کا ذکر