انوارالعلوم (جلد 23) — Page 592
انوار العلوم جلد 23 592 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔ان کے لڑکے ان تمام ضلعوں سے لاہور جائیں گے تاکہ وہ اپنے کالج میں تعلیم حاصل کر سکیں؟ یا اگر ایک ہی مقصد رکھنے والے لوگ ضلع لاہور کے مختلف شہروں میں آباد ہوں تو کیا ان کے بچے کسی ایک پرائمری سکول میں اکٹھے ہو سکتے ہیں ؟ اور اگر وہ ایک شہر میں رہتے ہوں تو ان کا کالج چل سکتا ہے۔اگر وہ ایک محلہ میں رہتے ہوں تو ان کا پرائمری سکول چل سکتا ہے لیکن اتنی چھوٹی سی بات بھی ہمارے ملک کے بعض افراد کی سمجھ میں نہیں آتی۔ہم نے تو اُس وقت شور مچایا تھا کہ امر تسر والوں کو بھی الگ شہر آباد کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے ایک خاص قسم کا ماحول بنا لیا تھا اور بعض خاص قسم کی تجار تیں اس شہر میں چل رہی تھیں۔ہم نے اُس وقت یہ کہا تھا کہ جالندھر ، پانی پت اور لدھیانہ والوں کو بھی الگ الگ قصبات آباد کرنے چاہئیں تاکہ خاص قسم کی تجار تیں اور صنعتیں جو ان شہروں میں چل رہی تھیں دوبارہ جاری کی جاسکیں۔اگر انہیں الگ الگ جگہوں پر نہ بسایا گیا تو وہ مخصوص تجار تیں اور صنعتیں تباہ ہو جائیں گی۔ہم نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ زبان اُردو کو زندہ رکھنے کے لئے اس کے بولنے والوں کو ایک علیحدہ علاقہ میں آباد کیا جائے اور پھر جو لوگ قربانی کر کے وہاں آباد ہو سکیں آباد ہو جائیں۔وہاں وہ اپنے سکول بنائیں، کالج بنائیں تا کہ زبان صاف رہے۔میں نے کہا تھا کہ اس کے لئے چالیس میل کے رقبہ کی ضرورت ہے۔اس لئے کہ قریب کا علاقہ زبان پر اثر ڈالتا ہے۔اگر بیچ میں شہر آباد ہو اور ارد گرد بھی اس زبان کے بولنے والے آباد ہوں تو شہر کی زبان محفوظ رہے گی بلکہ ممکن تھا کہ ارد گرد کے علاقہ میں بھی اُردو زبان پھیل جاتی اور آہستہ آہستہ اکتالیسویں میل کے علاقہ کے لوگ بھی اُردو بولنے لگ جاتے۔پھر بیالیسویں میل کے علاقہ والے بھی اُردو بولنے لگ جاتے۔پھر تینتالیسویں میل کے علاقہ والے بھی اُردو بولنے لگ جاتے کیونکہ اُردو ایک علمی زبان ہے اور علمی زبان جلد پھیل جاتی ہے۔غرض ہم تو یہ تحریک کر رہے تھے کہ ہر تجارت ، صنعت اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگ الگ الگ قصبات آباد کریں بلکہ اُردو دان بھی ایک الگ علاقہ میں آباد ہوں مگر اُلٹا ہم پر الزام لگایا گیا کہ ہم حکومت کے خیر خواہ نہیں اور اس وجہ سے الگ آباد